افغانستان میں طالبان رہنما قاری جمشید منور نے مبینہ طور پر ایک کم عمر لڑکی سے شادی کر کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک اور سنگین واقعہ جنم دیا ہے۔ یہ الزامات افغانستان ویمنز ایڈ فاؤنڈیشن کی سربراہ گُلچہرہ یافتی نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جن میں ایک معصوم بچی کو ایک بڑی عمر کے مرد کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے جو مبینہ طور پر زبردستی یا بچپن کی شادی کی عکاسی کرتے ہیں۔
گُلچہرہ یافتی نے بتایا کہ یہ ایک ایسی لڑکی ہے جو آج اسکول میں ہونی چاہیے تھی اور اپنے مستقبل اور تعلیم کے بارے میں سوچ رہی ہوتی لیکن وہ قاری جمشید منور (جسے داملا شاہین کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک طالب بدخشانی) کی ہوس اور استحصال کی نذر ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملا شاہین نے دھوکہ اور دباؤ کے ذریعے ایک کم عمر لڑکی جس کی پہلے ہی کسی اور شخص سے منگنی ہوچکی تھی، اس کی منگنی تڑوا کر اپنے نکاح میں شامل کر لیا۔
دختربچهای که باید امروز در مکتب باشد و به فکر آینده و دانشش باشد، قربانی هوس و سوءاستفاده قاری جمشید منور، مشهور به داملا شاهین طالب بدخشانی، شده است. او با فریب و فشار، دختری زیر سن قانونی را که نامزد داشت، از نامزدی جدا کرده و به نکاح خود درآورده است. این عمل نه دین است و نه… pic.twitter.com/SoOzdpiRzZ
— Golchehrah Yaftali (@womenaidafghan1) January 9, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ تو دین کے مطابق ہے اور نہ قابل قبول؛ یہ ایک معصوم بچے پر سودے بازی کے مترادف ہے اور کوئی بھی بیدار ضمیر رکھنے والا انسان اسے قبول نہیں کر سکتا۔
تصویر میں بچی سفید لباس میں ہلکے رنگ کے دوپٹے اور ہیڈ سکارف کے ساتھ سنجیدہ اور اداس نظر آ رہی ہے جبکہ مرد لمبی داڑھی، روایتی ٹوپی اور واسکٹ میں مسکراتے ہوئے لڑکی کا ہاتھ پکڑے ہوئے دکھائی دے رہا ہے۔
یہ واقعہ افغانستان میں بچپن کی شادیوں اور لڑکیوں کے استحصال کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک واضح مثال ہے جہاں غربت، معاشی بحران اور سماجی دباؤ کے باعث کم عمر لڑکیوں کو شادی کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ اور یونیسیف کی رپورٹس کے مطابق:
افغانستان میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں میں سے تقریباً 30% شادی شدہ ہیں، جن میں سے 10% 15 سال سے کم عمر کی ہیں۔
2025-2026 میں معاشی مشکلات کے باعث یہ شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
بعض کیسز میں 6 سے 9 سال کی بچیوں تک کو فروخت یا شادی کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال لڑکیوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور بہت سی بچیاں ایسے نکاح میں جسمانی تشدد، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت حمل کی زد میں آ جاتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








