الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالیاتی گوشوارے جمع نہ کرانے کے باعث کارروائی کرتے ہوئے 33اراکین سندھ اسمبلی اور 32اراکین قومی اسمبلی سمیت مجموعی طور پر 159اراکین اسمبلی و سینیٹ کی رکنیت معطل کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے مالی اثاثوں کی تفصیل جمع نہ کرانے پر 32اراکین قومی اسمبلی، 50اراکین پنجاب اسمبلی، اور 33 اراکین سندھ اسمبلی کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے بھی درجنوں اراکین کی رکنیت معطل کردی۔
مجموعی طور پر 159 اراکین پارلیمنٹ اور اراکین صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے حکم پر اراکین کو پارلیمنٹ میں داخلے سے بھی روک دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کی کارروائی کا شکار اراکین میں قومی اسمبلی کے 32، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سمیت پنجاب اسمبلی کے 50، سندھ اسمبلی کے 33، کے پی اسمبلی کے 28 اور بلوچستان اسمبلی کے 7 کے علاوہ سینیٹ کے 9اراکین بھی شامل ہیں۔
جن اراکین پر اس کارروائی کا اطلاق کیا گیا ان میں وفاقی وزیر مصدق ملک، خالد مقبول صدیقی، ارشد وہرا، سردار اختر مینگل، سید عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، سائرہ افضل تارڑ اور مہرین رزاق بھٹو سمیت دیگر شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سینیٹ اراکین فوزیہ ارشد، عابد شیر علی، مراد سعید اور نور الحق قادری کی رکنیت بھی معطل کردی۔واضح رہے کہ معطل ارکان رکنیت بحال ہونے تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے، الیکشن ایکٹ کے تحت اراکین اسمبلی15جنوری تک مالی گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے 32ارکان کو اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرانے پر ایوان میں داخلے سے روک دیا، سپیکر نے کہا کہ اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکان کو حاضری نہ لگانے دی جائے، ایک رکن ابھی بھی ایوان میں ہے وہ خود ہی چلا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








