سولہ گھنٹے بعد گل پلازہ کی آگ نہ بجھ سکی تو قدرتی آفات سے کیسے نمٹا جائے گا؟ آخر کب ہوگا 17 سالہ حکمرانی کا احتساب؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں حالیہ آتشزدگی کا واقعہ ایک بار پھر سندھ حکومت کی نااہلی اور سنگین غفلت کو بے نقاب کر گیا ہے۔ یہ آگ تقریباً 14 گھنٹوں سے زائد وقت تک بھڑکتی رہی اور مکمل طور پر قابو میں نہ آ سکی جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ عمارت کی شدید تباہی، ستونوں میں دراڑیں اور منہدم ہونے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

یہ واقعہ کوئی انفرادی حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی 17 سالہ مسلسل حکمرانی کے دوران فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور شہری تحفظ کے نظام کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں کراچی جیسے کروڑوں کی آبادی والے شہر کے لیے موثر فائر بریگیڈ، جدید آلات، مناسب واٹر سپلائی اور بلڈنگ کوڈز کے نفاذ پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ نہ تو شاپنگ پلازوں اور تجارتی مراکز میں فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر فائٹنگ سسٹم کو لازمی قرار دیا گیا نہ ہی ریسکیو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔

خدانخواستہ اگر کراچی میں کوئی بڑی قدرتی آفت جیسے شدید سمندری طوفان، زلزلہ یا سیلاب آ جائے تو یہ حکومت اسے کیسے سنبھالے گی؟ جب ایک عام شاپنگ پلازہ کی آگ کو 14 گھنٹوں میں نہیں بجھایا جا سکا تو ہزاروں جانوں اور اربوں کی جائیداد کو خطرے میں ڈالنے والی بڑی آفت کے وقت کیا صورتحال ہوگی؟ یہ سوال ہر کراچی والے کے ذہن میں موجود ہے۔

سندھ حکومت کی ترجیحات عوامی تحفظ کی بجائے سیاسی مفادات اور کرپشن پر مرکوز رہی ہیں۔ اپوزیشن اور شہری حلقوں کی تنقید کے باوجود کوئی اصلاح نہیں کی گئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرے اور فوری طور پر کراچی کے فائر سیفٹی سسٹم کو جدید بنانے، بلڈنگز میں سخت معیارات نافذ کرنے اور ایمرجنسی سروسز کو مضبوط کرنے کے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ ورنہ یہ واقعات مزید انسانی جانوں کا سبب بنتے رہیں گے اور عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

Related Posts