کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتہ کے روز لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 83 سے زائد افراد تاحال لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔ ریسکیو اداروں کے مطابق متاثرہ عمارت میں سرچ اور ریسکیو آپریشن بدستور جاری ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے بعد منگل کے روز دوبارہ سلگتے ہوئے کوئلوں کے باعث آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیش آئیں۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود رہیں اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔
اس افسوسناک سانحے کے دوران ایک حیران کن اور ایمان افروز منظر بھی سامنے آیا جب ریسکیو ٹیموں نے گل پلازہ کی پہلی منزل پر واقع مسجد میں داخل ہو کر دیکھا کہ قرآن پاک کے تمام نسخے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
کراچی گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد
مسجد کی ویڈیو سامنے آگئی
مسجد میں رکھے قرآن پاک آگے سے محفوظ
رہے، سبحان اللہ
Karachi gul plaza Masjid video#GulPlazaFire #karachigullplaza #KarachiNews #karachifire pic.twitter.com/5saqIcX4N7— Sumair jamil (@sumair_shah123) January 19, 2026
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق مسجد میں شدید دھواں موجود تھا تاہم قرآن مجید الماریوں میں جوں کے توں رکھے ہوئے تھے۔ نہ کوئی نسخہ جلا نہ زمین پر گرا اور نہ ہی ان پر آگ کے اثرات نظر آئے۔ اسی طرح مسجد میں موجود نماز کی چٹائیاں اور دیگر اشیاء بھی محفوظ پائی گئیں۔
ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں بتایا گیا کہ مسجد کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے اور وہاں کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ اس منظر کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اسے معجزاتی واقعہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو منگل کے روز اجلاس منعقد کرے گی جس میں آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات اور ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








