بھارتی ریاست کیرالہ میں بس کے سفر کے دوران مبینہ چھیڑ چھاڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک شخص کی خودکشی کے افسوسناک واقعے نے پورے صوبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں ویڈیو بنانے اور شیئر کرنے والی خاتون کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق کوزی کوڈ ضلع سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ دیپک نے اس وقت اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا جب ایک خاتون نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اس پر بس کے سفر کے دوران چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے باعث دیپک کو شدید ذہنی دباؤ اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اطلاعات کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے ایک دن بعد ہی دیپک نے خودکشی کر لی۔ واقعے کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم مزید حقائق سامنے آنے اور اہلِ خانہ کے بیانات کے بعد پیر کے روز بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 108 کے تحت خاتون کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔
متوفی کے رشتہ داروں اور قریبی دوستوں کا کہناہے کہ سوشل میڈیا پر ویڈیو کے پھیلاؤ نے دیپک کو اندر سے توڑ دیا تھا اور وہ اس بدنامی کو برداشت نہ کرسکا۔ ان کے مطابق دیپک شدید ذہنی اذیت میں مبتلا تھا۔
دوسری جانب ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شمالی کیرالہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کو معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔
دیپک کی موت کے بعد کیرالہ بھر میں اس واقعے پر شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








