سماجی روایات اور خاندانی نظام کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام کے طور پر پنجاب حکومت نے اپنے تاریخی ہاؤسنگ منصوبے ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کو وسعت دیتے ہوئے اب مشترکہ خاندانوں کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد ایک ساتھ رہنے والے بڑے خاندانوں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے، جس کے تحت وہ بلاسود اور آسان اقساط پر قرض حاصل کر کے اپنے موجودہ گھروں کو وسعت دے سکیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس منصوبے کو صوبے کے لیے ’’سنہری تحفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جدید رہائشی ضروریات اور صدیوں پرانی خاندانی یکجہتی کی روایت کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔
مریم نواز شریف نے حکام کو اقساط کی ادائیگی میں تیزی لانے اور منصوبے کے لیے فنڈز بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ کے ذیلی منصوبے کے تحت بے زمین شہریوں کو پلاٹس کے ساتھ ساتھ بلاسود تعمیراتی قرضے بھی فراہم کیے جائیں گے۔
بلاسود اور قابلِ برداشت اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے ذریعے اس پروگرام کا مقصد خاندانوں کو اپنے گھروں میں توسیع کی سہولت دینا ہے، تاکہ مشترکہ رہائش کی ثقافتی روایت برقرار رہے اور مالی دباؤ میں کمی آئے۔
اس اسکیم میں اب مشترکہ خاندانوں کے لیے گھروں کی توسیع سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2026 تک ایک لاکھ ساٹھ ہزار گھروں کی تکمیل کی جائے۔
ابتدائی مرحلے میں جہلم، قصور، فیصل آباد اور لودھراں سمیت مختلف شہروں میں 1,534 پلاٹس کی قرعہ اندازی کی جائے گی۔
اس منصوبے کو عوامی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور مالی اعتبار سے بھی اس کی ساکھ مضبوط رہی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حکومت ایک نئی پالیسی بھی تیار کر رہی ہے جس کے تحت مرکزی درخواست گزار کے انتقال کی صورت میں خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے گا، تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں وہ اپنے گھر یا مالی سہولت سے محروم نہ ہوں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








