وادئ تیراہ فوجی احکامات پر خالی کرانے کے دعوے بدنیتی پر مبنی، تردید سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

وادئ تیراہ
(فوٹو: آن لائن)

حکومت نے فوجی احکامات کے تحت وادئ تیراہ کو خالی کرانے کے دعووں کو بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے دعووں کی تردید کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کو نوٹس لے لیا جس میں دعویٰ کیا گیا وادی تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کروایا جارہا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

بیان میں وزارتِ اطلاعات نے کہا کہ ایسے دعووں کا مقصد عوام میں میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وفاقی حکومت یا مسلح افواج نے وادئ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گردوں  کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں اور  اس دوران خیال رکھا جاتا ہے کہ شہریوں کی زندگی متأثر نہ ہو۔ ان کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت نہیں، نہ ہی ایسا کیاجارہا ہے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان کے مطابق یہ بھی قابل ذکر ہےکہ مقامی آبادی کو خود خوارج دہشت گردوں کی وادی میں موجودگی پر تشویش اور امن و استحکام کی خواہش ہے۔ کے پی حکومت کے ریلیف، بحالی اور آباد کاری کے محکمے نے 26دسمبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا جس کے تحت 4ارب روپے جاری کیے گئے۔

بیان کے مطابق  یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضا کارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیش نظر رکھی گئی ہے تاکہ پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کیے جا سکیں، جن میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے۔

تاہم وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ اس دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈی سی خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضا کارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاس ہے، جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی۔ اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مد نظر رکھا گیا ہے اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا۔

یہی نہیں، بلکہ وزارتِ اطلاعات کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اس نقل مکانی کو مسلح افواج سے منسلک کیا گیا ہو، سراسر غلط، من گھڑت اور  بدنیتی پر مبنی  اور بدقسمتی سے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی انتہائی افسوسناک کوشش ہیں۔

Related Posts