سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایک غلط کنفیگر شدہ کلاؤڈ ڈیٹا بیس کی وجہ سے تقریباً 149 ملین صارفین کے فیس بک، انسٹاگرام اور جی میل کے یوزر نیم، پاس ورڈز اور دیگر متعلقہ معلومات لیک ہو گئی ہیں۔
یہ ڈیٹا بیس سائبر سیکیورٹی محقق جیریمیا فاؤلر نے دریافت کیا، جن کا کہنا تھا کہ اس میں 96 گیگابائٹس غیر محفوظ ڈیٹا موجود تھا۔ اس ڈیٹا میں صرف ای میل اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہی نہیں بلکہ دیگر مختلف آن لائن سروس اکاؤنٹس کی معلومات بھی شامل تھیں۔
آپ کا بھی تو شامل نہیں؟ جی میل کے 48 ملین صارفین کا ڈیٹا لیک
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ متاثرہ اکاؤنٹس میں 48 ملین جی میل، 17 ملین فیس بک، 6.5 ملین انسٹاگرام، 3.4 ملین نیٹ فلکس، 780,000 ٹک ٹاک، 420,000 بائنانس اور 100,000 اونلی فینز اکاؤنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں یاہو، آؤٹ لک، آئی کلاؤڈ اور تعلیمی ای میل اکاؤنٹس بھی متاثر ہوئے۔
ماہرین نے وضاحت کی کہ یہ معلومات ایک وائرس کے ذریعے حاصل کی گئی جو متاثرہ موبائل ڈیوائسز یا کمپیوٹرز میں داخل ہو کر پاس ورڈز، براؤزر میں محفوظ ڈیٹا اور دیگر حساس معلومات چراتا ہے، جو پھر ہیکرز تک منتقل کی جاتی ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ڈیٹا لیکس اکاؤنٹس کے غلط استعمال، مالی فراڈ اور جعلی پیغامات بھیجنے کے خطرات بڑھا دیتے ہیں، خاص طور پر اگر صارفین متعدد اکاؤنٹس میں ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہوں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ ڈیٹا لیک کسی ایک کمپنی کے سسٹم ہیک ہونے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ مختلف ذرائع سے جمع کی گئی معلومات کے نتیجے میں سامنے آیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








