بورڈ آف پیس خفیہ معاہدے کا حصہ ہے؟ ترجمان دفترِ خارجہ نے مکمل حقیقت واضح کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق پاکستان کا اصولی مؤقف بدستور قائم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کو ابراہم اکارڈ سے جوڑنا یا اسے اس معاہدے کا کوئی متبادل یا ذیلی راستہ سمجھنا درست نہیں ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ معاپدہ ابراہمی دراصل اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کے درمیان 2020 میں طے پانے والا ایک مشترکہ اعلامیہ ہے جس کے تحت اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کیے جبکہ بورڈ آف پیس کا اس معاہدے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کا متفقہ فیصلہ تھا جو تمام ضابطہ جاتی تقاضے مکمل کرنے کے بعد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کا بنیادی مقصد غزہ میں جنگ بندی کو مضبوط اور برقرار رکھنا، تعمیرِ نو کے عمل میں معاونت کرنا اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر سمیت سات دیگر اہم مسلم ممالک بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شمولیت کو ان آٹھ اسلامی ممالک کی مشترکہ امن کوششوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو غزہ میں امن کے قیام اور مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کے لیے کی جا رہی ہیں۔

غزہ میں جاری انسانی بحران، جانی نقصانات اور وسیع پیمانے پر تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ بورڈ آف پیس فلسطین اور بالخصوص غزہ کے عوام کے لیے عملی امید کی ایک کرن ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ایک مخصوص مینڈیٹ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے نظام کو کمزور کرنے کے بجائے اس کی تکمیل کرے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Related Posts