سانحہ گل پلازہ یا بزنس مین اغوا ؟ معروف صحافی نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹانے کی چونکا دینے والی وجہ بتادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ حکومت نے گل پلازہ سانحے کے بعد شہر میں ٹریفک کی صورتحال کنٹرول نہ کرنے کے الزام پر ڈی آئی جی ٹریفک (کراچی) پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے تاہم معروف صحافی طہٰ عبیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ اصل وجہ گل پلازہ نہیں بلکہ کراچی کے معروف بزنس مین دانش متین کے اغواء کے معاملے میں پیر محمد شاہ کی مبینہ مداخلت ہے۔

دانش متین کا اغواء

کرائم رپورٹر طہٰ عبیدی نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ 14 جنوری 2026 کی شام سات بجے حیدرآباد پولیس کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، امیر خسرو روڈ، فیز 6 پہنچی اور دانش متین کو اغواء کر کے حیدرآباد لے گئی۔ دانش متین متین سنز کے مالک اور ایک طاقتور بزنس مین ہیں۔ اغواء کے واقعے کے بعد اداروں میں ہلچل مچ گئی اور بزنس مین کو بعد میں دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا۔

ڈی آئی جی کا کردار

دانش متین کے اغواء کے بعد تحقیقات میں ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا نام سامنے آیا۔ اغواء 31 کروڑ روپے کے لین دین سے متعلق تھا اور دعویٰ ہے کہ پیر محمد شاہ نے اس میں پاور پریکٹس کی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے ڈی آئی جی کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی تھی لیکن پیر محمد شاہ نے اپنی پوزیشن واضح نہیں کی جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اغواء کا مقدمہ

طہٰ عبیدی نے دعوی کیا کہ معروف تاجر دانش متین نے اپنی بازیابی کے بعد گزری تھانہ کراچی میں 365A اغواء کا مقدمہ درج کرایا۔ مقدمے میں بتایا گیا کہ وہ شام سات بجے اپنے دفتر سے گھر جا رہے تھے کہ ایک سفید گاڑی BEB 567 نے انہیں روکا، تشدد کا نشانہ بنایا اور اغواء کرلیا۔ اغواء کاروں نے ایک ملین روپے نقد، موبائل فون اور قیمتی گھڑی تحویل میں لی ساتھ ہی 30 ملین روپے تاوان کا مطالبہ بھی کیا۔ طاقتور بزنس کمیونٹی کی مداخلت سے دانش متین رات 11 بجکر 40 منٹ پر دفتر کے قریب چھوڑ دیے گئے۔

سندھ حکومت کا موقف

حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ پیر محمد شاہ کو گل پلازہ سانحے کے بعد ٹریفک کی صورتحال کنٹرول نہ کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا۔ ان کی جگہ مظہر نواز شیخ کو ڈی آئی جی ٹریفک پولیس تعینات کیا گیا ہے۔ گل پلازہ کے بعد سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال ابتر رہی جس سے فائر بریگیڈ کو پلازہ تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔

Related Posts