بلوچستان آپریشن مکمل: 133 دہشت گرد ہلاک، فورسز کے 15جوان، 18شہری شہید

تازہ ترین

تازہ ترین

بلوچستان
(فوٹو: بی بی سی)

کوئٹہ: سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں 2 روز کے اندر آپریشن مکمل کرلیا جس کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ دہشت گردوں نے 18 شہریوں اور 15 جوانوں کو شہید کردیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں نے بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور 31 جنوری کو صوبہ بلوچستان کے مختلف شہروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، گوادر، خاران اور پسنی شامل ہیں۔

شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 شہریوں کو شہید کردیا۔ فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کے دوران مختلف شہروں پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنادیا اور 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک کیے جس کے بعد 2 روز میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 133 تک جا پہنچی۔

کلیرنس آپریشن کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 15جوانوں نے جامِ شہادت نوش کرلیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے یہ حملے پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد کمانڈرز کی ہدایت پر کیے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ پاک فوج، فورسز اور پولیس کے جوانوں کی ایسی قربانیاں دہشت گردوں کے خلاف ہمارے عزم کو مضبوط کرتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہوگیا۔ سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کو منہ توڑ جواب دے کر واضح کردیا ہے کہ اس قسم کے 10 حملے بھی ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔

 

Related Posts