یہ صرف ٹریلر ہے پکچر ابھی باقی ہے! بالی وڈ ہدایت کار روہت شیٹھی کے گھر فائرنگ کے پیچھے کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ممبئی میں بالی وڈ کے معروف فلم ساز روہت شیٹھی کی رہائش گاہ کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں تاکہ حملے کے محرکات اور پسِ پردہ نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کی صبح تقریباً 12 بج کر 45 منٹ پر پیش آیا جب نامعلوم افراد موٹرسائیکل پر سوار ہو کر جوہو میں واقع روہت شیٹھی کی رہائش گاہ کے باہر پہنچے اور اندھا دھند فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا۔

واقعے کے کچھ ہی دیر بعد لارنس بشنوئی گینگ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام کے ذریعے اس فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی۔ گینگ کی جانب سے جاری پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ روہت شیٹھی کو پہلے بھی خبردار کیا گیا تھا کہ وہ گینگ سے متعلق معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ پیغام میں اس فائرنگ کو محض ایک چھوٹا ٹریلر قرار دیتے ہوئے مزید سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پونے سے پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جنہیں مزید تفتیش کے لیے ممبئی کرائم برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش میں گرفتار افراد کے روابط گینگ سے منسلک بعض مشتبہ کرداروں، جن میں شبھم لونکر سمیت دیگر افراد شامل ہیں سے جوڑے جا رہے ہیں۔

پولیس اور کرائم برانچ نے واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے جبکہ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

یہ واقعہ نہ صرف فلمی صنعت بلکہ عوامی حلقوں میں بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے خاص طور پر اس لیے کہ گینگ کی جانب سے کھلے عام ذمہ داری قبول کرنے اور مزید دھمکیوں نے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

Related Posts