پاکستان میں کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے مطابق اسٹیٹ بینک کا بورڈ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائنز کی منظوری دے چکا ہے اور وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد مرحلہ وار تمام کرنسی نوٹ تبدیل کیے جائیں گے۔
نئے نوٹ جدید سیکیورٹی فیچرز اور نئی کلر اسکیم پر مشتمل ہوں گے جبکہ حتمی عمل درآمد وفاقی کابینہ کی منظوری سے کیا جائے گا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے بھی خبردار کیا کہ اگر پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے کی بات کی گئی تو اس کے مارکیٹ پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔
اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ کمیٹی نے پانچ ہزار روپے مالیت کے تین جعلی نوٹ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو دیے تھے، تاہم نہ تو اس پر کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی وہ نوٹ واپس کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پچھتر روپے کا کرنسی نوٹ تو عملی طور پر مارکیٹ میں استعمال ہی نہیں ہوتا، اس لیے ایسے نوٹ جاری کیے جائیں جو واقعی گردش میں رہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پانڈا بانڈ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں جاری کیے جانے کا امکان ہے اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ اجلاس کے دوران ارکان نے یو اے ای سے قرض کے رول اوور سے متعلق سوال بھی اٹھایا، جس پر سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں اور اس نوعیت کے سوالات مناسب نہیں ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








