حکومت کا عوامی دباؤ کے بعد یوٹرن! نیٹ بلنگ پر عمل درآمد اچانک روک دیا گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے قومی اسمبلی میں نیٹ میٹرنگ پالیسی کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

اویس لغاری نے بتایا کہ ملک بھر میں فی الحال تقریباً ساڑھے چار لاکھ (4 لاکھ 66 ہزار) صارفین نیٹ میٹرنگ سسٹم استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صارفین اپنے سرمائے پر ایک سال میں تقریباً 50 فیصد منافع حاصل کر رہے ہیں کیونکہ وہ تقریباً 5 روپے فی یونٹ کی لاگت سے بجلی پیدا کر کے گرڈ کو 27 روپے فی یونٹ کی شرح سے فروخت کر رہے ہیں۔

وزیر نے وضاحت کی کہ اگر یہی پالیسی جاری رہی تو باقی 90 فیصد صارفین پر بجلی کی قیمت میں 2 سے ڈھائی روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔ نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی سے ان نیٹ میٹرنگ صارفین کا منافع تقریباً 37 فیصد تک کم ہو جائے گا جبکہ باقی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں ایک سے ڈیڑھ روپے فی یونٹ کی کمی ممکن ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی سے کسی کا بھی بڑا نقصان نہیں ہوگا اور یہ دعویٰ غلط ہے کہ اس سے غریب آدمی متاثر ہوگا۔

اویس لغاری نے سوشل میڈیا پر جاری تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹر نے ماضی میں 5 بار تبدیلیاں کی ہیں۔ ملک میں کل سولر انرجی کی صلاحیت 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے جس میں سے صرف 6 سے 7 ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ کے تحت ہے اور اس میں سے تقریباً 2200 میگاواٹ صنعتی شعبے نے لگایا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیٹ میٹرنگ کا سب سے زیادہ فائدہ ملک کی اشرافیہ اور امیر طبقے کو مل رہا ہے جبکہ سولر سسٹم زیادہ تر پوش علاقوں میں نصب کیے گئے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک سال کے اندر 780 ارب روپے کا گردشی قرضہ کم کیا گیا ہے، وزیراعظم کے ایک رشتہ دار کی آئی پی پی سے بھی 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی اور شہباز شریف کی حکومت نے توانائی شعبے میں جو اصلاحات کیں، وہ پہلے کوئی نہیں کر سکا۔

Related Posts