انڈیا سے پاکستان آکر شادی کرنے والی سابقہ سکھ خاتون سربجیت کور جو اسلام قبول کرنے کے بعد نور فاطمہ بن چکی ہیں، دوبارہ اپنے شوہر کے گھر شیخوپورہ پہنچ گئی ہیں۔
سربجیت کور (نور فاطمہ) اور ان کے شوہر ناصر حسین کے وکیل احمد حسن پاشا کے مطابق متروکہ وقف املاک حکام نے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد گزشتہ رات انہیں ویمن شیلٹر ہوم (دارالامان) لاہور سے رہا کر دیا گیا۔
متروکہ وقف املاک کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں وزارت خارجہ کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر سربجیت کور کو ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ ان کا ویزہ 13 نومبر تک کارآمد تھا تاہم وہ واپس انڈیا نہیں گئیں۔ بعد ازاں انہوں نے اسلام قبول کیا اور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔
شادی کے بعد وہ پاکستان میں ہی مقیم ہیں جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں فی الحال ملک بدر نہ کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








