پاکستان کے بینکنگ سیکٹر نے برآمد کنندگان کیلئے ایک اہم ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ ایکسپورٹ ری فنانس فیسیلیٹی (ای آر ایف) پر مارک اپ کی شرح میں رضا کارانہ طور پر 3 فیصد کی کمی کر دی گئی ہے جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان کو قرض حاصل کرنے کی لاگت فوری طور پر کم ہو کر 4.50 فیصد رہ گئی ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد برآمدی صنعت کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور ملک کی معاشی بحالی کے عمل کو تقویت دینا ہے، تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ یہ رعایت فوری نافذ العمل ہے اور ای آر ایف اسکیم کے تحت ملنے والے تمام نئے قرضوں اور رول اوور قرضوں پر لاگو ہوگی۔
اس وقت یہ سہولت 1,052 ارب روپے کی موجودہ حد کے اندر دستیاب ہے، البتہ اس میں لچک رکھی گئی ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا ایگزم بینک جون 2027 تک اس حد میں اضافہ کر دیں تو اسے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پی بی اے نے صنعت کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بینک معیشت کی بحالی میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مالی سال 2025 میں نجی شعبے کو دیے گئے قرضوں میں 1.1 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جو پچھلے مالی سال کے 470 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ اضافہ ورکنگ کیپیٹل اور مستقل سرمایہ کاری دونوں میں دیکھا گیا۔ خاص طور پر ایس ایم ایز کو قرضوں میں زبردست اضافہ ہوا جہاں قرض لینے والوں کی تعداد 57 فیصد بڑھی اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو ملنے والی رقم دو سالوں میں دگنی ہو گئی۔
زرعی شعبے میں بھی ریکارڈ بحالی دیکھی گئی ہے۔ قرض لینے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 30 لاکھ ہو گئی، جس سے 2019 سے جاری کمی کا سلسلہ ختم ہوا اور کل قرضوں کی رقم 2.58 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں نجی شعبے کے قرضوں میں مزید 654 ارب روپے یا 6.75 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پی بی اے کے مطابق یہ شرح سود میں رعایت بینکنگ سیکٹر کی طرف سے معیشت کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں ایک اور اہم قدم ہے جس میں گردشی قرضوں کی کمی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری میں تعاون جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
پی بی اے کے چیئرمین ظفر مسعود نے کہا کہ یہ اقدام محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ بینکنگ انڈسٹری کا قوم کی آواز پر لبیک کہنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کی ترقی ملک کی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ 4.50 فیصد جیسی انتہائی کم اور مسابقتی شرح پر فنانسنگ فراہم کر کے بینک ریاست اور برآمد کنندگان کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں۔ اعداد و شمار خود گواہی دے رہے ہیں کہ نجی شعبے میں 654 ارب روپے کی توسیع اور زرعی شعبے میں ریکارڈ قرضوں کی فراہمی سے معیشت کا پہیہ چلتا رہے گا۔ پی آئی اے کی نجکاری سے لے کر گردشی قرضوں کے انتظام تک، بینکنگ سیکٹر پاکستان کی خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








