ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (DGPC) نے پیٹرولیم قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تین ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (E&P) کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
حکام نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ 18 جولائی 2025 کو پاکستان پیٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) رولز 1986 اور 2001 کے تحت جورا انرجی کارپوریشن، فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ اور اسپاڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کو نوٹسز جاری کیے گئے۔
یہ کارروائی 1986 کے قواعد کے رول 68(d) اور رول 71(c)، جبکہ 2001 کے قواعد کے رول 69(d) اور رول 52(f) کے تحت شروع کی گئی۔ ان قوانین کے مطابق کسی بھی ایکسپلوریشن لائسنس کی معطلی یا منسوخی سے پہلے باضابطہ شوکاز عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔
متعلقہ کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں تحریری وضاحت اور متعلقہ دستاویزات جمع کرائیں۔ ریگولیٹر اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا ان خلاف ورزیوں کا ازالہ یا قانونی تقاضوں کے مطابق تلافی ممکن ہے یا نہیں۔
لائسنس کی منسوخی کا امکان موجود ہے، تاہم یہ فیصلہ مکمل قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
یہ معاملہ چھ ماہ تک اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت رہا۔ 6 فروری 2026 کو عدالت نے ریگولیٹر کو ہدایت کی کہ تمام فریقین کو منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کرتے ہوئے کارروائی آگے بڑھائی جائے۔
موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت عملدرآمد جاری ہے اور حتمی فیصلہ ریگولیٹری عمل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسپاڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (SEPL) پاکستان میں قائم جورا انرجی کارپوریشن کی ذیلی کمپنی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








