خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی میں ایک دو روزہ ایکسپو کے دوران چار طلبہ کو خارج کر دیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے یونیورسٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب ایک طالب علم کی جانب سے بھارتی ترانہ گانے اور جے ہند کا نعرہ لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ویڈیو میں یونیورسٹی کے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے تیسرے سمسٹر کے طالب علم جبران ریاض کو ترانہ گاتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
سافٹ ویئر اپڈیٹ🚨
باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں منعقد ہونے والے ایکسپو کے دوران سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ ویڈیو میں فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالب علم کو بھارتی نعرہ اور ترانہ پڑھتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور مختلف… pic.twitter.com/29Uv7DPK3A
— Mahnoor Haider (@Mahnoor_Haider2) February 15, 2026
ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے یونیورسٹی انتظامیہ پر تنقید کی اور طالب علم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انتظامیہ نے فوری طور پر ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا اور ان طلبہ کے خلاف کارروائی کی۔
اطلاع کے مطابق، خارج کیے گئے طلبہ نے یونیورسٹی کے ضوابط اور ہوسٹل قوانین کی خلاف ورزی کی۔ انتظامیہ نے ان کی یونیورسٹی ہوسٹل میں رہائش منسوخ کر دی اور انہیں فوری طور پر رہائش خالی کرنے کی ہدایت دی۔
اس حوالے سے باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس معاملے کی اطلاع میڈیا کے ذریعے ملی ہے اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہی وہ اس پر باضابطہ ردعمل دے سکتے ہیں۔
بعد ازاں جبران ریاض نے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ترانہ اور نعرہ محض تفریح کے لیے گایا گیا تھا۔ ان کے مطابق، جس طرح لوگ بھارتی گانے سنتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی تفریح کے لیے ترانہ گایا اور نعرہ لگایا جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ جبران نے واضح کیا کہ وہ بھارت سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے وفادار ہیں جبکہ بھارت کو دشمن ملک قرار دیا۔
یونیورسٹی نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا کہ اس قسم کے اقدامات قومی یکجہتی اور امن کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں اس لیے سخت فیصلہ ضروری تھا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ اور عوام میں اس معاملے پر وسیع بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ پہلے بھی کچھ طلبہ کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں یا رسومات کے باعث تعلیمی اداروں میں تادیبی کارروائیاں کی جا چکی ہیں تاہم ایسے واقعات نے تعلیمی ماحول اور سوشل میڈیا پر قومی دفاع اور یکجہتی کے موضوع پر نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








