بھارتی ریاست اڈیشا کے دارالحکومت بھونیشور میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں پیٹرول کی نئی قیمت 101 روپے 16 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 92 روپے 74 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح کٹک شہر میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کٹک میں پیٹرول 101 روپے 46 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 93 روپے 2 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔
بھارت کے دیگر بڑے شہروں میں پیٹرول کی قیمتیں اس طرح ہیں۔ نئی دہلی میں 94 روپے 77 پیسے، کولکتہ میں 105 روپے 41 پیسے، ممبئی میں 103 روپے 54 پیسے اور چنئی میں 101 روپے 6 پیسے فی لیٹر دستیاب ہے۔
ڈیزل کی قیمت نئی دہلی میں 87 روپے 67 پیسے، کولکتہ میں 92 روپے 2 پیسے، ممبئی میں 90 روپے 3 پیسے جبکہ چنئی میں 92 روپے 61 پیسے فی لیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور مقامی ٹیکسوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین ایک مخصوص نظام کے تحت کیا جاتا ہے جس میں وفاقی حکومت، ریاستی حکومتیں اور تیل کی سرکاری کمپنیاں شامل ہوتی ہیں۔
قیمتوں کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
بھارت میں 2017 سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں حکومتی کنٹرول سے آزاد ہیں یعنی حکومت براہِ راست قیمت مقرر نہیں کرتی۔ قیمتوں کا بنیادی تعین سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں کرتی ہیں، جن میں نمایاں ہیں۔
انڈین آئل کارپوریشن
بھارت پیٹرولیم
ہندوستان پیٹرولیم
یہ کمپنیاں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، روپے کی قدر، ریفائننگ (تیل صاف کرنے) کی لاگت اور ترسیلی اخراجات کو مدنظر رکھ کر روزانہ قیمتوں کا جائزہ لیتی ہیں۔
وفاق اور ریاست کا کردار
قیمت کا مجموعی ڈھانچہ درج ذیل عناصر پر مشتمل ہوتا ہے۔
بنیادی قیمت جو عالمی منڈی اور ریفائننگ لاگت پر مبنی ہوتی ہے۔
مرکزی پیداوار ی محصول (ایکسائز ڈیوٹی) جو وفاقی حکومت عائد کرتی ہے۔
ریاستی قدرِ افزوده محصول (ویلیو ایڈیڈ ٹیکس) جو ہر ریاست خود مقرر کرتی ہے۔
ڈیلر کمیشن یعنی پمپ مالکان کا منافع۔
اسی وجہ سے مختلف ریاستوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں کیونکہ ہر ریاست کا قدرِ افزوده محصول الگ ہوتا ہے۔
کیا الگ الگ ریاستیں نرخ جاری کرتی ہیں؟
ریاستیں براہِ راست بنیادی قیمت جاری نہیں کرتیں تاہم چونکہ وہ اپنا ٹیکس خود طے کرتی ہیں اس لیے مختلف شہروں میں قیمتوں میں فرق آ جاتا ہے۔ تیل کمپنیاں روزانہ نئی قیمتیں جاری کرتی ہیں جو مقامی ٹیکس شامل ہونے کے بعد نافذ العمل ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر نئی دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں ایندھن کی قیمتیں ریاستی ٹیکسوں کے فرق کے باعث ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف وفاقی حکومت طے نہیں کرتی۔
بنیادی قیمت تیل کمپنیاں مقرر کرتی ہیں۔
وفاق مرکزی محصول عائد کرتا ہے۔
ریاستیں اپنا ٹیکس مقرر کرتی ہیں۔
اسی مشترکہ نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ایندھن کی قیمتوں میں فرق دیکھنے میں آتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








