نیدرلینڈز نے ایران کے سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا ہے جو تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈچ سفارت کار کے سامان کی ضبطی سے متعلق ایک سفارتی تنازعہ پیدا ہونے کے بعد سامنے آیا۔
ڈچ وزارتِ خارجہ نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ 28 جنوری 2026 کو ایک ڈچ سفارت کار کو ایئرپورٹ پر پہنچنے پر اپنے سامان کی جانچ کیلئے مجبور کیا گیا جو نیدرلینڈز کے نزدیک ناقابل قبول اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
The government of the Netherlands is meddling to stir unrest inside Iran.
A Dutch diplomat’s suitcase was seized at Tehran’s Imam Khomeini International Airport after he refused an X-ray scan,inside were Starlink units, satellite phones, and high-tech wireless equipment clearly… pic.twitter.com/sTZmKmkPdj
— Richard (@ricwe123) February 24, 2026
نیدرلینڈز نے بارہا ایران سے مطالبہ کیا کہ ضبط کیے گئے سامان کو فوری طور پر واپس کیا جائے تاہم سرکاری بیان میں سامان کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ احتجاج اس وقت کیا گیا جب ایرانی ذرائع نے واقعے کی ویڈیو آن لائن جاری کر دی۔
واقعے کی تفصیلات
ایرانی میڈیا اور ذرائع نے معاملے کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ڈچ سفارت کار نے ایئرپورٹ کے ایکس رے سکینر سے سامان چیک کروانے سے انکار کر دیا جس پر سیکیورٹی حکام نے سامان کو عارضی طور پر ضبط کر لیا۔ سفارت کار نے سامان چھوڑ کر جلد ہی ایران سے روانہ ہو گئے۔
بعد میں ایک دوسرے ڈچ سفارت کار نے سامان واپس لینے کی کوشش کی تو اندر سے پورٹیبل اسٹار لنک موڈیم، متعدد سیٹلائٹ فونز اور دیگر حساس مواصلاتی آلات برآمد ہوئے۔ ایران میں یہ سامان سخت ٹیلی کام قوانین اور قومی سلامتی کے خدشات کی وجہ سے ممنوعہ یا انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آلات جاسوسی یا غیر قانونی مواصلات کیلئے استعمال ہونے والے سامان کی فہرست میں آتے ہیں جبکہ نیدرلینڈز نے اسے سفارتی سامان قرار دے کر فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے کیونکہ دونوں فریق اپنے موقف پر قائم ہیں۔ نیدرلینڈز نے اسے سفارتی حادثہ قرار دیا ہے جبکہ ایرانی ذرائع اسے قومی سلامتی سے جڑا حساس معاملہ بتا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








