پنجاب کی تحصیل ڈسکہ کے علاقے دولت پور میں رمضان کے مقدس مہینے میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں راشن کی تقسیم کے نام پر ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی رمضان کے سستے راشن یا پیکیج لینے کے لیے وہاں پہنچی تھی لیکن دو ملزمان نے اسے ایک ورکشاپ میں لے جا کر اسلحے کی دھمکی دے کر یرغمال بنا لیا اور پھر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سٹی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پولیس کی تفتیش جاری ہے تاکہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں بھی ایک حاملہ خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا کیس رپورٹ ہوا تھا۔ اس واقعے میں ایک نجی کیٹرنگ کمپنی کے مالک اور اس کا ساتھی ملزم تھے جنہوں نے خاتون کو کام یا کسی بہانے سے ڈیفنس روڈ پر واقع گھر میں بلایا اور پھر زیادتی کی۔
خوش قسمتی سے کاہنہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 15 فروری کو دونوں ملزمان کو جوہر ٹاؤن سے گرفتار کر لیا تھا۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن شہربانو نقوی نے اس موقع پر کہا تھا کہ خواتین کے استحصال کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور ملزمان کو ضمانت یا معافی کے بغیر سزا دلائی جائے گی۔ مقدمہ تھانہ کاہنہ میں درج کر کے تفتیش شروع کی گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








