ملک بھر میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے خدشے نے سر اٹھا لیا، کالعدم دہشت گرد گروہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار نے پاکستان سے برسر پیکار طالبان رجیم کی امداد کیلئے اپنے جنگجوؤں کو دہشت گرد حملے تیز کرنے کا کہہ دیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار سمیت دیگر جنگجو تنظیمیں پاکستان کی جانب سے طالبان رجیم کے خلاف حملوں اور درجنوں طالبان کی ہلاکت کے بعد متحرک ہوئیں۔ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور جماعت الاحرار نے اپنے جنگجوؤں کو ملک گیر حملوں کا اشارہ دے دیا۔
TTP & Jammat ul Ahrar group also announced to initiate aggressive attacks in Pakistan to aid Afghan Taliban.
In separate statements, TTP Chief Noor Wali Mehsood & JuA instructed members to launch attacks across Pakistan.
(Statements posted for information purpose exposing TTA) pic.twitter.com/D6uhXo5pC1— Farzana Shah (@Jana_Shah) February 27, 2026
دونوں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے الگ الگ ہدایت ناموں میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں تیزی لانے کا کہا گیا۔ دونوں دہشت گرد تنظیموں کے لیٹر ہیڈز پر جنگجوؤں کو جاری ہدایات سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں جن میں دہشت گردوں کو جہاد کے نام پر بھڑکایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز پر حملوں سمیت دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں اور خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار سے منسوب کیاجاتا ہے۔
دونوں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے جنگجوؤں کو جاری ہدایات کے تناظر میں ملک بھر کے سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں حساس مقامات بشمول مساجد، امام بارگاہوں اور عوامی مقامات کی کڑی نگرانی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








