امریکا سے امن مذاکرات کے دوران ایران پر اسرائیل و امریکا کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی ایران جنگ تھم نہ سکی، دونوں ممالک جنگ کے تسلسل پر بضد ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات داغ دئیے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی میڈیا کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ دیگر امریکی صدور کی طرح زمینی فوج نہ بھیجنے کا نہیں کہوں گا۔ ممکن ہے کہ زمینی فوج بھیجنا ہماری ضرورت بن جائے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں کیے گئے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی اہداف واضح ہیں، ایران کی میزائل صلاحیت تباہ کریں گے، ایرانی بحریہ تباہ کردیں گے اور ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے۔
خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی میزائل پروگرام جوہری ہتھیاروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے تھا، امریکا اسے روکنے کا خواہش مند تھا اور ہر کوئی ہمارا ساتھ دے رہا تھا۔ جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں سے لیس ایران امریکا کے علاوہ مشرق وسطیٰ کیلئے بھی ناقابلِ برداشت خطرہ ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قتل مذہبی جرم ہے جس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ ہماری علاقائی ممالک کے ساتھ جنگ نہیں ہے۔ انہیں ایران پر حملے کے متعلق امریکا پر دباؤ ڈالنا ہوگا۔
انہوں نے امریکی حملے میں جاں بحق گرلز اسکول کی 160طالبات کی قبروں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ریسکیو ہے جس کا ٹرمپ نے ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا۔ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کرکے سفارت کاری کو دھوکہ دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








