ایران پر ہونے والے حالیہ مشترکہ حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سمیت ان کے خاندان کے متعدد افراد کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کیا گیا جس میں رہبرِ انقلاب کو ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں آیت اللہ خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور ان کی کمسن نواسی بھی شہید ہوئیں۔ شہید ہونے والی بچی کی شناخت زہرا محمدی گل پائیگانی کے نام سے کی گئی ہے جن کی عمر محض 14 ماہ بتائی جا رہی ہے۔ کمسن بچی کی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے جس نے پوری قوم کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا ہے۔
Martyr Zahra Mohammadi Golpayegani
The young granddaughter of the martyred Leader of the Islamic Revolution, who was blessed with martyrdom alongside him. pic.twitter.com/6fRvVuekmP
— Khamenei Media (@Khamenei_m) March 2, 2026
اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ہفتے کی صبح 28 فروری کی ابتدائی ساعتوں میں کیا گیا جسے ایرانی حلقوں نے کھلی جارحیت اور بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قیادت کو نشانہ بنانا دراصل قوم کے حوصلے پست کرنے کی کوشش ہے، تاہم ایران کی عوام اپنے شہداء کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای 86 برس کی عمر میں اس حملے میں شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد ملک بھر میں سات روزہ عام تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور شہداء سے اظہارِ عقیدت پیش کیا۔
ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ قومی خودمختاری اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








