رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ تک اسرائیل کی خفیہ رسائی! جانیں اے آئی اور ہیکنگ کے حیران کن راز

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے کئی سالوں تک تہران کے تقریباً تمام ٹریفک کیمروں کو ہیک کر رکھا تھا تاکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نقل و حرکت اور ان کی سیکیورٹی ٹیم کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ یہ رپورٹ متعدد موجودہ اور سابق اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں اور دیگر ذرائع کے حوالے سے تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہیکنگ آپریشن کئی سال قبل شروع ہوا تھا۔ تہران کے ٹریفک کیمروں کی فوٹیج کو انکرپٹ کرکے خفیہ طور پر تل ابیب اور جنوبی اسرائیل کے سرورز پر بھیجا جاتا تھا۔ خاص طور پر ایک کیمرہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب پارکنگ ایریا کی نگرانی کرتا تھا جہاں ان کی سیکیورٹی ٹیم کی گاڑیاں کھڑی رہتی تھیں۔ علاوہ ازیں، موبائل فون نیٹ ورکس تک بھی رسائی حاصل کی گئی تاکہ ان کی روزمرہ کی روٹین اور اعلیٰ افسران کی آمد و رفت پر نظر رکھی جا سکے۔

یہ نگرانی اس وقت انتہائی اہم ثابت ہوئی جب گذشتہ ہفتے فروری 2026 کے آخر میں اسرائیلی فضائی حملے میں خامنہ ای کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں امریکی فورسز نے بھی معاونت فراہم کی اور انہوں نے سائبر حملوں کے ذریعے ایران کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو کمزور کیا۔ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے کمپاؤنڈ پر تقریباً 30 بم گرائے جہاں خامنہ ای ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شریک تھے۔ حملے سے قبل ہیک شدہ کیمروں اور سگنل انٹیلی جنس کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی تھی کہ خامنہ ای اور دیگر سینئر افسران موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ آپریشن روئرنگ لائن کا حصہ تھا جس کی شروعات 2001 میں موساد کی ایک ہدایت سے ہوئی تھی۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے خامنہ ای کی روزانہ کی نقل و حرکت کا تفصیلی نقشہ بھی تیار کیا تھا۔

اس رپورٹ نے ایران میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی ہے جبکہ عالمی میڈیا میں اسے ایک انتہائی پیچیدہ اور طویل المدتی انٹیلی جنس آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا تاہم متعدد ذرائع اسے خامنہ ای کی شہادت کے پس منظر میں ایک اہم اور حیران کن انکشاف قرار دے رہے ہیں۔

Related Posts