پاکستان میں پیٹرول ختم ہونے والا ہے؟ پمپ مالکان کا بڑا انتباہ؛ وزیراعظم کو خط ارسال

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث پاکستان میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے کوٹہ سسٹم نافذ کر دیا ہے جس کے باعث پیٹرول پمپس کو ایندھن کی سپلائی محدود یا تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ بعض اوقات آرڈرز جاری ہونے کے باوجود بعد میں منسوخ کر دیے جاتے ہیں جبکہ آئل ٹینکرز کو بھی گھنٹوں انتظار کے باوجود مطلوبہ مقدار فراہم نہیں کی جا رہی۔

پیٹرول پمپ مالکان نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام میں بے چینی اور افواہیں پھیل سکتی ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی پابندی یا کوٹہ سسٹم کے نفاذ سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور فوری اقدامات کیے جائیں مگر تاحال حکومت یا آئل کمپنیوں کی جانب سے اس خط پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کا کہنا ہے کہ ملک میں 28 دن کے لیے تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اس عرصے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی طلب پوری کی جا سکتی ہے۔

تاہم خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے راستے متاثر ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کے دو کارگو تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے بحیرہ احمر کے راستے تیل درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ سعودی آرامکو اور ایڈنوک جیسی کمپنیاں متبادل راستوں سے پاکستان کو تیل فراہم کر سکتی ہیں۔ کچھ کھیپیں ملک پہنچ چکی ہیں جبکہ مزید راستے میں ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان ماہانہ تقریباً دس لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے جس میں سعودی عرب سب سے بڑا فراہم کنندہ ہے جبکہ متحدہ عرب امارات دوسرے نمبر پر ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود ایندھن کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

Related Posts