ایران کے 11 جہاز نہیں بلکہ تصویریں؟ تہران نے امریکا کو دھوکہ کیسے دیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایران کے زیادہ تر میزائل لانچرز، لڑاکا طیارے اور ایرانی بحریہ کے 11 جہاز تباہ کر دیے ہیں۔

سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ دو روز قبل خلیجِ عمان میں ایرانی حکومت کے پاس 11 جہاز موجود تھے، آج ان کی تعداد صفر رہ گئی ہے۔

تاہم کچھ شواہد سے اشارہ ملتا ہے کہ امریکی فضائی حملوں میں سے کئی ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے بنائے گئے جعلی اہداف پر ہوئے۔ امریکا کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ویڈیوز میں جن مقامات کو ایرانی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر حملے قرار دیا گیا، بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ اصل عسکری سازوسامان کے بجائے زمین پر بنائی گئی تصاویر تھیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس سروس نے زمین پر حرارتی (تھرمل) پینٹ کے ذریعے ایف 14  لڑاکا طیاروں کی شکلیں بنائی تھیں تاکہ نگرانی اور ہدف بنانے والے نظام کو دھوکا دیا جا سکے۔

بعد ازاں امریکا نے ایسی ویڈیوز جاری کیں جن میں میزائلوں اور بموں کو انہی جعلی اہداف کو نشانہ بناتے دکھایا گیا، جبکہ اطلاعات کے مطابق ایرانی فضائیہ نے اپنے اصل لڑاکا طیارے زیرِ زمین تنصیبات میں منتقل کر دیے تھے۔

ایک اور واقعے میں اسرائیلی فوج کی جاری کردہ فوٹیج میں ایک فضائی حملہ دکھایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں ایرانی ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم بعد کی تجزیاتی رپورٹس سے معلوم ہوا کہ وہ بھی دراصل زمین پر بنائی گئی تصویر تھی، کوئی حقیقی ہیلی کاپٹر نہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق ایران پر ہفتے کے روز حملے شروع کرنے کے بعد امریکا کو تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی سازوسامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ اندازے انادولو ایجنسی کی مرتب کردہ رپورٹ پر مبنی ہیں۔

اس نقصان کا بڑا حصہ قطر کے العدید ایئر بیس پر نصب امریکی ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹم اے این 132 سے متعلق ہے جس کی مالیت تقریباً 1.1 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ہفتے کے روز ایک ایرانی میزائل اس ریڈار سسٹم سے ٹکرایا جس کے بعد قطری حکام نے تصدیق کی کہ ریڈار کو نقصان پہنچا ہے۔

Related Posts