آذربائیجان کے خودمختار علاقے نخچیوان میں ایک ایرانی ڈرون حملے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں اور تہران کی جوابی حکمتِ عملی کے باعث خطے میں پہلے ہی تناؤ موجود ہے۔
آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً 12 بجے (08:00 جی ایم ٹی) پیش آیا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون نخچیوان ایئرپورٹ کی ٹرمینل عمارت سے جا ٹکرایا جبکہ دوسرا ڈرون شکرآباد گاؤں کے قریب ایک اسکول کے نزدیک گرا۔
حملے کے نتیجے میں دو شہری زخمی ہوئے جبکہ ایئرپورٹ کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اسلامی جمہوریہ ایران کی سرزمین سے کیے گئے اور تہران سے اس بارے میں واضح وضاحت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آذربائیجان نے ایران کے سفیر مجتبیٰ دیمیرچیلو کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا اور خبردار کیا کہ اس واقعے کے ردِعمل میں ملک مناسب جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ نخچیوان کی سرحدیں ایران اور ترکی سے ملتی ہیں۔ گزشتہ سال یہی علاقہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امریکا کی ثالثی میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کا حصہ تھا جس کا مقصد برسوں سے جاری تنازع کے بعد خطے میں استحکام لانا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








