سرکاری ہاسٹل میں گولیاں کھلا کر معصوم بچوں کے ساتھ ہولناک درندگی کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

ریپ کا شکار بچہ
علامتی تصویر، گیٹی امیجز

انڈیا کی ریاست مہاراشترا کے ضلع ناسک میں ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں محکمہ سماجی بہبود کے زیر انتظام چلنے والے ایک ہاسٹل میں دسویں جماعت کے کچھ طالب علموں نے، ہاسٹل میں ہی رہائش پذیر دیگر چھوٹے بچوں کو مبینہ طور پر نیند کی گولیاں کھلا کر ریپ کا نشانہ بنایا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد متاثرہ بچوں کے والدین کی شکایت کی بنیاد پر ملزم بچوں کے خلاف جنسی جرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ناسک کے سرکاری ہاسٹل میں رہنے والے دسویں جماعت کے سات طالب علموں نے ہاسٹل کے پانچویں سے آٹھویں جماعت کے لڑکوں کو مبینہ طور پر نشہ آور اشیا دے کر، ہاسٹل کے احاطے میں متعدد بار ان کا ریپ کیا۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ گزشتہ سات ماہ سے جاری تھا۔

متاثرہ بچوں کی جانب سے پولیس کو بتایا گیا ہے کہ ملزمان انہیں سیاہ رنگ کی گولیاں کھلاتے تھے۔ بچوں کے مطابق، یہ گولیاں کھانے کے بعد انہیں چکر آنے لگتے تھے اور اس کے بعد اگر کوئی ان کے ساتھ مار پیٹ بھی کرتا تو بھی انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ جن بچوں کو گولیاں کھلائی جاتی تھیں، شام کے بعد ملزم لڑکے انہیں مبینہ طور پر کبھی ہاسٹل کے باہر جھاڑیوں میں لے جاتے اور کبھی ہاسٹل کے اندر ہی ان پر جنسی تشدد کرتے۔

متاثرہ بچوں کے مطابق انہیں دھمکیاں دی جاتی تھیں کہ اگر انہوں نے باہر جا کر کسی کو کچھ بتایا تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا، اسی خوف کی وجہ سے بچوں نے خاموشی اختیار رکھی۔

اس معاملے میں ہاسٹل انتظامیہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یا محکمہ سماجی بہبود کو واقعے کی اطلاع نہ دینے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے پر ہاسٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور ادارے کے چار ڈائریکٹرز کو بھی نامزد کر لیا۔

Related Posts