سن رائزرز کرکٹ فرنچائز، جو سن گروپ کی ملکیت ہے اور جس کی قیادت کلانِتھی مارن اور کاویہ مارن کر رہے ہیں، شدید آن لائن تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سسٹر ٹیم سن رائزرز لیڈز نے دی ہنڈرڈ ڈرافٹ کے دوران پاکستان کے مسٹری اسپنر ابرار احمد کو 255,000 ڈالر (190,000 پاؤنڈ) میں منتخب کر لیا۔
لیڈز سے تعلق رکھنے والی اس ٹیم نے لندن میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے افتتاحی ڈرافٹ میں ابرار احمد کو منتخب کیا، جس کے بعد وہ دی ہنڈرڈ میں کسی بھارتی فرنچائز کی ملکیت والی ٹیم کے ذریعے منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی کرکٹر بن گئے۔
تاہم اس انتخاب کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر بعض بھارتی شائقین کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ناقدین نے فرنچائز پر الزام لگایا کہ اس نے قومی حساسیت کو نظرانداز کیا ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ابرار احمد کی سائننگ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد سن رائزرز لیڈز کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ کے معطل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے آن لائن قیاس آرائیوں اور بحث کو مزید ہوا ملی۔
مداحوں نے ابرار احمد کی مبینہ پرانی سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹس بھی گردش میں لائے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ ان میں بھارتی فوج کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ اس کے بعد بعض صارفین نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں سن رائزرز حیدرآباد کے بائیکاٹ کی بھی اپیلیں شروع کر دیں۔
فرنچائز کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اس واقعے نے کھیل، سیاست اور عوامی جذبات کے باہمی تعلق پر ایک وسیع آن لائن بحث کو جنم دے دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








