پاکستان میں غیر ملکی مصنوعات پر انحصار بڑھنے لگا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران گاڑیوں اور اسمارٹ موبائل فونز سمیت کئی غیر ملکی لگژری اشیاء کی درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور مجموعی درآمدات 45 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر گئیں
تفصیلات کے مطابق درآمد کی گئی غیر ملکی اشیاء میں سب سے زیادہ اسمارٹ فونز اور گاڑیاں شامل تھیں۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک کی مجموعی درآمدات میں دستاویز کے مطابق جولائی سے فروری تک 8.21 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد حجم 45 ارب ڈالر سے بڑھ گیا۔ اس عرصے میں درآمدات میں 3 ارب 45 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اس دوران اسمارٹ موبائل فونز اور مہنگی گاڑیوں سمیت دیگر لگژری اشیاء کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا۔ جولائی تا فروری میں 1.29 ارب ڈالر مالیت کے موبائل فونز درآمد کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد زیادہ ہیں۔
اسی طرح مہنگی گاڑیوں کی درآمدات میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 126 فیصد اضافے کے بعد 1.53 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ کاروں سمیت ٹرانسپورٹ کے شعبے کی مجموعی درآمدات میں 87 فیصد اضافہ ہوا اور حجم 2.58 ارب ڈالر رہا۔
پاکستان میں غذائی اشیاء کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا فروری میں غذائی اشیاء کی درآمدات میں 18.42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور حجم 6.41 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک ارب ڈالر اضافی غذائی اشیاء درآمد کی گئیں، جن میں چینی، خشک میوہ جات، چائے، مصالحے، سویا بین اور پام آئل شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








