خاتون پولیس اہلکار کا اغوا، زیادتی اور شرمناک ویڈیوز! ٹک ٹاکر ثمینہ پری زاد سنگین الزامات کی زد میں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

گوجرانوالہ کی ایک خاتون پولیس اہلکار کو مشہور ٹک ٹاکر ثمینہ پری زاد (عرف ثمینہ بی بی) نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ اس دوران فحش ویڈیوز بھی ریکارڈ کی گئیں۔ یہ سنگین الزامات تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں درج مقدمے میں سامنے آئے ہیں۔

مدعیہ جو پنجاب پولیس میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں نے اپنے بیان میں بتایا کہ تقریباً 12 سال قبل (2012 میں) جھنڈا سنگھ کی یاسین سائنس اکیڈمی میں کمپیوٹر کورس کے دوران ان کی ثمینہ سے دوستی ہوئی تھی۔ نوکری ملنے کے بعد رابطہ ختم ہو گیا تھا مگر 2024 میں ثمینہ نے ان کا پتہ لگا کر دوبارہ ملاقات شروع کر دی۔

Image

مدعیہ کے مطابق ثمینہ پری زاد نے انہیں اپنے گھر محلہ برکت پورہ، قلعہ دیدار سنگھ بلایا۔ وہاں مہمان نوازی کے بہانے نشہ آور مشروبات پلائے جس سے وہ نیم بے ہوش ہو گئیں۔ پھر نشہ آور انجکشن لگا کر مکمل بے ہوش کرکے فحش ویڈیوز بنا لیں۔ ہوش آنے پر ویڈیوز دکھا کر بلیک میل کیا کہ اگر حکم نہ مانیں تو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گی۔

اس کے بعد متعدد بار یہی طریقہ کار اپنایا گیا۔ نشہ آور چیزیں پلائیں، انجکشن لگائے، بے ہوش کیا اور مختلف سیکس ٹوائے سے جنسی تشدد کیا۔ دن بھر انہیں کمرے میں بند رکھا جاتا اور رات کو زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔

درج مقدمے کے مطابق 13 مارچ 2026 کی صبح تقریباً 6:30 بجے موقع ملنے پر مدعیہ بھاگنے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کے بیان میں الزام ہے کہ ثمینہ نے ویڈیوز کی دھمکی اور اسلحہ کے زور پر اغوا کیا، غیر قانونی حراست میں رکھا اور بار بار جنسی استحصال کیا۔

مدعیہ کی بیان کی بنیاد پر تھانہ قلعہ دیدار سنگھ میں مقدمہ نمبر 262/2026 درج کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 367-A (اغوا برائے جنسی زیادتی)، 376 (ریپ)، 337-J (تشدد) اور دیگر شامل ہیں۔

مدعیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمہ کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی تلاشی لی جائے، ویڈیوز برآمد کی جائیں اور انہیں تحفظ دیا جائے۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور اطلاعات کے مطابق ملزمہ کے فون سے دیگر فحش ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں۔

Related Posts