ملک بھر میں طوفانی بارش اور ژالہ باری کے خطرات! محکمہ موسمیات کا ہنگامی الرٹ جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

محکمہ موسمیات نے آج سے 30 مارچ تک ملک کے مختلف علاقوں میں طوفانی ہواؤں، موسلا دھار بارش اور کئی مقامات پر ژالہ باری کی پیشگوئی جاری کی ہے۔ محکمہ کے مطابق مغربی ہواؤں کا سلسلہ آج بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے جو 27 مارچ کو شدت اختیار کرے گا اور 30 مارچ تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران دن کے درجہ حرارت میں کمی متوقع ہے۔

سسٹم کے زیر اثر ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اور بعض علاقوں میں ژالہ باری ہو سکتی ہے جبکہ بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ ہے۔

مختلف علاقوں کی پیشگوئی

اسلام آباد اور پنجاب: مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، پاکپتن، اوکاڑہ، قصور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بھکر، لیہ، ملتان، کوٹ ادو، بہاولپور، ساہیوال، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں 25 تا 26 اور 28 تا 30 مارچ تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی، ژالہ باری اور گرج چمک کی توقع ہے۔

سندھ: کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، سکھر، دادو، کشمور، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں 25 تا 26 اور 28 تا 29 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش، آندھی، ژالہ باری اور گرج چمک کا امکان ہے۔

خیبرپختونخوا: چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، بونیر، کوہستان، مالاکنڈ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، ہری پور، مردان، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں وقفے وقفے سے تیز ہواؤں، موسلا دھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔

بلوچستان: پنجگور، تربت، کیچ، آواران، مکران کوسٹ (گوادر، پسنی، اورماڑہ)، لسبیلہ، خضدار، خاران، چاغی، دالبندین، قلات، سبی، کوہلو، برکھانٹہ، لوئر آباد، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب اور مستونگ میں تیز ہواؤں، بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

شہریوں اور عوام کے لیے ہدایات

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم ایز نے شہریوں، سیاحوں اور مسافروں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ آندھی، ژالہ باری اور تیز ہوائیں کمزور ڈھانچے جیسے بجلی کے کھمبے، سولر پینلز اور بل بورڈز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں کھڑی فصلوں کو بھی اس موسمی سسٹم سے خطرہ ہے لہٰذا کسانوں کو اپنی فصلوں کا مناسب انتظام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

Related Posts