اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کیلئے بڑا خطرہ! اوپن اے آئی کے چیف کی تشویشناک وارننگ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت جہاں انسانیت کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر رہی ہے وہیں اس کے نتیجے میں نئے خطرات بھی سامنے آ سکتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اے آئی جدید سائنسی تحقیق میں مدد دے سکتی ہے خاص طور پر بیماریوں کے علاج کی دریافت میں جس سے مستقبل میں انسانی زندگی کا معیار بہتر ہونے کی امید ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے ساتھ ایسے خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سام آلٹمین کے مطابق اے آئی کے ممکنہ منفی اثرات سے نمٹنا کسی ایک کمپنی کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے پوری دنیا اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جدید اور طاقتور اے آئی ماڈلز نہ صرف معاشروں بلکہ عالمی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں جن میں حیاتیاتی خطرات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ان خدشات کی تفصیل بیان نہیں کی لیکن ماہرین پہلے ہی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت میں تیزی سے ترقی مستقبل میں ایسے نظام تشکیل دے سکتی ہے جو انسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

سام آلٹمین ماضی میں اے آئی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں تاہم اس بار انہوں نے واضح کیا کہ اس کے خطرات زیادہ پیچیدہ، غیر متوقع اور تیزی سے سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انسانیت کا تحفظ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Related Posts