امریکا نے جنگ ختم کرنے کی ذمے داری نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، فائل فوٹو

امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ رکوانے کا ٹاسک اب نائب صدر جے ڈی وینس کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسے جے ڈی وینس کے سیاسی کیریئر کا اہم ترین اسائمنٹ قرار دیا جارہا ہے، کیوں کہ وہ ری پبلکن پارٹی میں 2028 کے صدارتی امیدوار کے طور پر سب سے مضبوط نام سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی لابی ایران جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ان کے خلاف سرگرم ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مذاکرات کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کو اہم ذمہ داری دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے متعدد بار بات چیت کی ہے، جبکہ خلیجی اتحادیوں سے بھی ان کی کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایران کے ساتھ بالواسطہ رابطوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ سے قبل جے ڈی وینس ان چند افراد میں شامل تھے جو ایران سے جنگ پر اعتراضات رکھتے تھے، تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد وہ اس فیصلے کی حمایت میں کھڑے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر اور نیتن یاہو کے درمیان سخت ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق جے ڈی وینس نے ٹیلی فونک گفتگو میں بنجمن نیتن یاہو کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں سے قبل ان کے لگائے گئے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے۔

انہوں نے جنگ سے متعلق اسرائیلی اندازوں کو خوش فہمی قرار دیا اور حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے گرنے اور عوامی بغاوت کے دعوؤں پر بھی سخت تنقید کی۔

بعد ازاں ایک اسرائیلی اخبار میں یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ جے ڈی وینس ایران جنگ نہیں بلکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مقامی لوگوں پر تشدد کے معاملے پر نیتن یاہو پر برہم ہوئے تھے، تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے اس خبر کو غلط قرار دیا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے بعض سخت گیر حلقے جے ڈی وینس کے نرم رویے سے خوش نہیں ہیں اور وہ ایران پر صرف فوجی دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جے ڈی وینس کے کردار کو متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

Related Posts