بھاری جی ایس ٹی لگانے کی تجویز، پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم کتنے مہنگے ہوں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پیٹرولیم
(فوٹو: آن لائن)

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر بھاری جی ایس ٹی لگانے کی تجویز دے دی، جس کے ساتھ ہی پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم مزید مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات اور سولر سسٹم پر 18فیصد تک جی ایس ٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور آئندہ مالی سال کے ٹیکس ریونیو کا ہدف 1600روہے سے زائد اضافے کے ساتھ مقرر کرنے کی تجویز بھی دی۔

تاحال پیٹرولیم مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی کی شرح صفر ہے تاہم لیوی کی مد میں حکومت پہلے ہی بھاری بھرکم ٹیکس لے رہی ہے جو عوام پر اربوں کا بوجھ ڈالتا ہے۔ آئی ایم ایف نے سولر صارفین پر بھی 18فیصد ٹیکس عائد کرنے پر زور دیا۔

یہی نہیں، بلکہ آئی ایم ایف نے نئے گھروں پر ٹیکس چھوٹ بھی ختم کرنے کی تجویز دی۔ تجاویز کے مطابق حکومت چھوٹے کاروبار اور تاجروں پر اثاثوں کی بنیاد پر ٹیکس لگانے اور نئے بجٹ میں ٹیکس ہدف 15 ہزار 600ارب سے زائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس 14 ہزار 131ارب کے ہدف کو کم کرکے 13 ہزار 979 ارب ٹیکس کلیکشن کا ہدف رکھا گیا، تاہم 152ارب کی کمی کے باوجود گزشتہ 8 ماہ میں 428ارب کا شارٹ فال سامنے آیا ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ 9ماہ میں ٹیکس وصولیوں میں کمی 600ارب سے بڑھ جائے گی۔

رواں ماہ کے دوران ایف بی آر نے اب تک 865ارب سے زائد کی وصولی کی جبکہ ٹیکس ہدف 1 ہزار 367 ارب ہے، ایران جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے درآمدات متاثر ہورہی ہیں جبکہ ایف بی آر کو امید ہے کہ سپر ٹیکس اور سرچارج وصولی خسارہ پورے کرنے میں مدد دے گی۔

Related Posts