لاہور کی مقامی عدالت نے معروف اداکار علی ظفر کے حق میں جنسی ہراسانی کے الزامات پر مبنی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے معروف گلوکارہ میشا شفیع پر 50لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ می ٹو مہم سے شروع ہونے والا ہتک عزت کیس طویل عرصے تک میڈیا کی زینت بنا رہا۔ علی ظفر مدعیہ میشا شفیع کے خلاف یہ کیس جیت گئے ہیں۔ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
طویل عرصے تک چلنے والے مقدمے کی سماعت کے دوران 283 پیشیاں ہوئیں اور 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ گلوکار علی ظفر نے میشا شفیع پر ہتک عزت کا الزام لگاتے ہوئے 100 کروڑ روپے جرمانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ عدالت نے 8 سال بعد ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ سنایا۔ کیس کی سماعت کے 8سالوں میں 9 بار جج تبدیل ہوئے۔
قانونی چپقلش کا آغاز
دراصل گلوکارہ میشا شفیع اور اداکار و گلوکار علی ظفر کے مابین قانونی تنازعے کا آغاز 2018 میں ہوا جب میشا شفیع نے سوشل میڈیا پر ساتھی گلوکار علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے اور پھر یہ معاملہ ملک میں جاری می 2 تحریک کی نمایاں مثال سمجھا جانے لگا۔ علی ظفر نے ابتدا ہی سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی تھی۔
علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات کو اپنی ساکھ کے خلاف مہم جوئی قرار دیا اور دونوں فریقین کی جانب سے مقدمات دائر ہوئے۔ کیس کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات، شواہد اور قانونی نکات پر تفصیلی بحث ہوئی اور یہ مقدمہ عوامی توجہ کا مرکز بنا رہا کیونکہ علی ظفر اور میشا شفیع دونوں ہی عوام کے پسندیدہ ستارے رہے ہیں جن کے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز ہیں۔
علی ظفر کا بیان
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کیے گئے دعوے کے مطابق گلوکار علی ظفر نے سیشن کورٹ میں پیشی کے موقعے پر کہا کہ میں اس کیس کیلئے گزشتہ 8سال سے منتظر تھا اور مجھے یقین ہے کہ اس مقدمے کے فیصلے سے پاکستان کے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ میرے وکیل نے میرے حق میں دلائل مکمل طور پر حقائق کی بنیاد پر پیش کیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








