بھارتی شہر حیدرآباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنا کر اس کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانے کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تلنگانہ سائبر سیکیورٹی بیورو کی ڈائریکٹر شیکھا گوئل نے ایک بیان میں بتایا کہ بچوں کے خلاف جنسی ہراسانی سے متعلق مواد روکنے کے لیے قائم ٹِپ لائن پر موصول ہونے والی ایک شکایت پر بیورو کی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ نے فوری طور پر کارروائی شروع کی۔
حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ویڈیو کے تکنیکی تجزیے سے پتہ چلا کہ یہ جرم مقامی سطح پر ہی ہوا تھا اور بچی کے والدین کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا۔
تفصیلی تحقیقات کے بعد ملزم کی شناخت محمد فہد عرف عادل (19 سالہ) کے طور پر ہوئی جو گولکنڈہ علاقے کے کمہار واڑی کا رہائشی ہے اور ڈگری کے دوسرے سال کا طالب علم ہے۔ اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔
ڈائریکٹر نے بتایا کہ متاثرہ بچی ملزم کی قریبی رشتہ دار تھی اور اسے بہت پیار سے بھیا کہہ کر بلاتی تھی۔ ملزم اکثر بچی کے گھر آیا جاتا تھا اور جب گھر میں کوئی نہ ہوتا تو وہ بچی کو چھت پر لے جا کر غیر اخلاقی ویڈیو بناتا تھا۔ ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے الیکٹرانک آلات کو فورینسک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
اس کے خلاف آئی ٹی ایکٹ کی سیکشن 67-B اور POCSO ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کر کے ملزم کو ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔
یہ 2026 میں تلنگانہ سائبر سیکیورٹی بیورو کی جانب سے بچیوں کی حفاظت میں کامیاب ہونے والا دوسرا کیس ہے۔ متاثرہ بچی کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی گئی ہے جبکہ اس کے والدین کو بھی کونسلنگ دی گئی ہے تاکہ وہ اس صدمے سے نکل سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








