امریکی ماہر عالمی امور نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کو نیورمبرگ طرز کے مقدمے کی سماعت کیلئے پیش کیا جائے تو انہیں جنگی جرائم کے باعث پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔
اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی ماہر عالمی امور جان میئر شائمر نے کہا کہ اگر نیورمبرگ ٹرائلز ہوتے اور اسرائیلی و امریکی سربراہانِ مملکت کو عدالت میں پیش کیا جاتا تو صدر ٹرمپ، نیتن یاہو اور ان کے کئی مشیروں کو پھانسی کی سزا ہوسکتی ہے۔
ماضی میں نیورمبرگ ٹرائلز میں سابق نازی جرمن رہنماؤں کو بھی نسل کشی اور جارحانہ جنگ کے الزامات پر سزائیں دی گئی تھیں۔ ماہر عالمی امور جان میئر شائمر نے کہا کہ امریکا و اسرائیل نے ایران پر بلاوجہ 2 حملے کیے جن میں جون 2025 اور موجودہ جارحانہ کارروائیاں شامل ہیں جس میں ایران کا کوئی فوجی اقدام جواز نہیں بن سکا۔
Professor John Mearsheimer : “if there were Nuremberg trials right where the Israelis and the Americans were brought before the court, President Trump along with President Netanyahu and many of their advisors would be hanged” pic.twitter.com/EBwgCtDZtj
— Christopher Leonard (@ChrisLeonardATL) March 31, 2026
ماہر عالمی امور نے کہا کہ دونوں ممالک نے غیر قانونی طور پر ایرانی رہنماؤں کو قتل کیا اور غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ بھی لڑی۔ 28فروری سے امریکا اور اسرائیل نے جو جارحیت کی، اس میں اعلیٰ ایرانی افسران اور کمانڈرز نشانہ بن گئے۔ ان کارروائیواں میں ایران کی توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا و اسرائیل کی کارروائیوں میں سیکڑوں عام شہری جاں بحق ہوگئے۔ ایران کی مسلح افواج نے حملوں کے جواب میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں اور اثاثوں پر حملہ کیا اور ہر روز میزائل اور ڈرون آپریشنز بھی کیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








