عوام مزید بوجھ اٹھا پائیں گے؟ پاکستان میں مہنگائی سے متعلق رپورٹ نے ہلچل مچادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستانی معیشت ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے نے مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی پر مزید بوجھ ڈالیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن اور توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت آئندہ مہینوں میں مہنگائی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی شرح 15 فیصد سے بھی اوپر جانے کا خدشہ ہے۔ حالیہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت پہلے ہی بھاری سبسڈیز برقرار رکھنے میں مشکلات سے دوچار تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جو فروری میں 7 فیصد اور گزشتہ سال اسی مہینے میں صرف 0.7 فیصد تھی۔ دوسری جانب ہفتہ وار بنیادوں پر بھی مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں ایک ہفتے کے دوران 1.01 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے جو صرف ایک ہفتے میں 13 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپریل میں مہنگائی تقریباً 13 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ مئی اور جون میں اس کے 15 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ اسی تناظر میں توقع کی جارہی ہے کہ مرکزی بینک آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود میں 1 سے 2 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھا جاسکے۔

گزشتہ ماہ مرکزی بینک نے پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا جو مارکیٹ کی توقعات کے مطابق فیصلہ تھا۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے جو پاکستان میں مہنگائی کے خدشات کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

Related Posts