بین الاقوامی منڈی میں اتوار کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر تہران نے منگل کی شام تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو ملک کے پاور پلانٹس اور پلوں پر بمباری کی جا سکتی ہے۔ اس دھمکی کے بعد تیل کی سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 110.47 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ فیوچرز، جو مئی میں فراہمی کیلئے ہیں ابتدائی اضافے کے بعد 0.5 فیصد بڑھ کر 112.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ سیشن کے دوران یہ عارضی طور پر 114 ڈالر سے بھی اوپر گئے تھے۔ جون کی فراہمی کیلئے بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ بھی کچھ کمی کے بعد 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 110.47 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا حالانکہ جمعہ کے روز یہ 114 ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔
قیمتوں میں حالیہ اضافہ کئی ہفتوں سے جاری توانائی بحران کا تازہ باب ہے جس کی جڑیں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ہیں۔
ایران نے تقریباً 28 فروری کے آس پاس آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جو ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اقدام سے آئل ٹینکرز کی آمدورفت رک گئی اور سپلائی کے خدشات کی پہلی لہر پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں مارچ کے آغاز تک امریکی خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں میں پیداوار میں سست روی نے بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا جس سے ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں کے شدید ترین سپلائی جھٹکوں میں سے ایک کی بنیاد پڑی۔
اس کے بعد سے بحران میں مسلسل شدت آتی گئی، جس میں دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا۔
21 اور 22 مارچ کو ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ذریعے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم جاری کیا جس میں ایران کو خبردار کیا گیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے ورنہ اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اس اعلان کے بعد برینٹ کی قیمتیں 113 سے 114 ڈالر کی حد تک پہنچ گئیں۔ ایران نے جواب میں خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں کی دھمکی دی، جبکہ امریکی بیانات اور اسرائیلی عسکری کارروائیوں نے مارچ کے اختتام تک کشیدگی کو برقرار رکھا۔
تازہ کشیدگی اس ہفتے کے اختتام پر سامنے آئی جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے مطابق قوم سے خطاب کیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں پیغام جاری کیا جس میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو اسے جہنم جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صدر نے واضح طور پر ایرانی پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کی دھمکی بھی دی۔
بعد ازاں ایک اور مختصر پیغام میں بغیر کسی وضاحت کے، ٹرمپ نے لکھا: “منگل، رات 8 بجے (مشرقی وقت)!
ان بیانات پر تاجروں نے فوری ردعمل دیا تاہم دن کے دوران بلند ترین سطح سے قیمتوں میں کچھ کمی آئی کیونکہ مارکیٹ نے سفارتی حل کے امکانات اور براہ راست عسکری تصادم کے خطرات کا جائزہ لینا شروع کیا۔
توانائی ماہر کے مطابق مارکیٹ اس بات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے کہ یہ معاملہ سفارتی طور پر حل نہ بھی ہو سکے۔ ہر گزرتا الٹی میٹم قیمتوں کے لیے نئی بنیاد قائم کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے لے کر مسلسل الٹی میٹمز اور ممکنہ طویل علاقائی جنگ کے خدشات تک، بڑھتی ہوئی کشیدگی نے حالیہ ہفتوں میں قیمتوں میں تاریخی یومیہ اضافہ کیا ہے جبکہ فی الحال اس بحران کے جلد حل کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








