قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر اشتیاق احمد نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے بھرپور استقبال کی تیاریاں کر رکھی تھیں لیکن وہ ایئر پورٹ پر ملاقاتیں کرکے واپس چلے گئے۔
فرائڈے ٹائمز کیلئے لکھے گئے اپنے مضمون “متحدہ عرب امارات اپنا پیسہ واپس چاہتا ہے، مگر ہم اب بھی بھائی ہیں” میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان خلیجی سفارت کاری میں توازن برقرار رکھتے ہوئے اور اپنے دیرینہ اقتصادی و تزویراتی تعلقات کے تحفظ کے ساتھ، طے شدہ شرائط کے تحت متحدہ عرب امارات کے ڈیپازٹس (امانتی رقوم) واپس کر رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستانی قیادت نے گزشتہ برس 26 دسمبر کو عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے لیے بھرپور رسمی استقبال کی تیاریاں کر رکھی تھیں۔ جس میں جے ایف-17 طیاروں کا اسکورٹ، نور خان ایئربیس پر 21 توپوں کی سلامی، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے استقبال اور وزیر اعظم ہاؤس میں باضابطہ ریاستی تقریب کے لیے متحدہ عرب امارات کے جھنڈوں اور پورٹریٹ سے سجی ریڈ زون کی شاہراہیں شامل تھیں۔ تاہم یہ دورہ اس طے شدہ منصوبے کے مطابق نہ رہا۔ محمد بن زاید نے ایئرپورٹ پر ہی ملک کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت سے ملاقات کی اور طے شدہ تقریبات میں شرکت کیے بغیر جلد ہی روانہ ہو گئے۔
پروفیسر اشتیاق کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن، بالخصوص سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے تھے، اور یہ تناؤ بحیرہ احمر، سوڈان اور اسرائیل کے ساتھ وسیع تر علاقائی صف بندیوں تک پھیلا ہوا تھا۔
اس اختلاف نے خلیج کے اندر مسابقتی طرزِ عمل کو شکل دینا شروع کر دی تھی، جس نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو محض رسمی سے بڑھ کر اہم بنا دیا تھا۔ اسی دورانیے میں ایک مالیاتی معاملہ بھی سامنے آیا۔ پاکستان نے کسی کا ساتھ نہیں دیا۔ اس نے خلیجی ممالک کی باہمی رقابتوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا اور کسی دوسرے خلیجی ملک کے خلاف کسی بھی تزویراتی یا دفاعی موقف پر اتفاق نہیں کیا۔ پاکستان نے اپنا توازن برقرار رکھا اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔
چند ہفتوں بعد پاکستان نے متحدہ عرب امارات سے تقریباً 2.5 بلین ڈالر کے ڈیپازٹس کو رول اوور (مدت میں توسیع) کرنے اور شرح سود کو تقریباً 6.5 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کے قریب لانے کی درخواست کی۔ اصل مسئلہ شرح سود کا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی یہ سہولت پاکستان کے دوطرفہ انتظامات میں سب سے مہنگی بن چکی تھی۔
پاکستان نے اس معاملے کی براہِ راست پیروی کی۔ یہ درخواست قیادت کی سطح پر اٹھائی گئی۔ صدر زرداری نے پہلے بحرین اور پھر متحدہ عرب امارات کا سفر کیا۔ سفارتی اور فوجی ذرائع بھی فعال رہے۔ مقصد واضح تھا: کم لاگت پر ڈیپازٹ کی مدت میں توسیع حاصل کرنا۔
مگر اس سب کے باوجود متحدہ عرب امارات نے شرائط میں ترمیم نہیں کی۔ اس نے زیادہ شرح سود برقرار رکھی اور صرف دو ماہ کی رول اوور مدت کی اجازت دی۔ چونکہ اب یہ مدت ختم ہو رہی ہے، پاکستان نے رواں ماہ سے اپنے اسٹیٹ بینک کے ذخائر سے مرحلہ وار ان ڈیپازٹس کی واپسی شروع کر دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








