خواجہ آصف کو اسرائیل کیخلاف اپنی سخت ترین ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے پر کس نے مجبور کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

خواجہ آصف کی ٹوئٹ
خواجہ آصف کی ٹوئٹ نے اسرائیل میں صف ماتم بچھا دی، فوٹو آن لائن

 وزیر دفاع خواجہ آصف نے مبینہ طور پر اسرائیل پر لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید ترین تنقید کی، تاہم بعد میں انہوں نے یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا، جس کے بعد معاملہ مزید دلچسپ ہو گیا۔

اسرائیل نے جمعرات کے روز لبنان میں مزید اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔

اس سلسلے میں ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ “اسرائیل انسانیت کے لیے ایک لعنت ہے، جب اسلام آباد میں امن مذاکرات جاری ہیں تو لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ معصوم شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان، خونریزی مسلسل جاری ہے۔ میں امید اور دعا کرتا ہوں کہ فلسطینی سرزمین پر قائم اس ریاست کو بنانے والے یورپی یہودی جہنم میں جلیں۔”

اس ٹوئٹ پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ اس نوعیت کے بیانات ناقابل برداشت ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس نے ایکس پر کہا کہ پاکستان کے وزیر دفاع کی جانب سے اسرائیل کے خاتمے کی اپیل انتہائی افسوسناک ہے، اور یہ بیان کسی بھی حکومت خصوصاً امن کے دعویدار ملک کی طرف سے قابل قبول نہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات ایران اور امریکا کے درمیان چھ ہفتے سے جاری تنازع میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو مبینہ طور پر پاکستان کی درخواست پر کیا گیا اور یہ اعلان ایک ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے پہلے سامنے آیا تھا۔

اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پاکستانی وزیر نے یہ ٹوئٹ کیوں ڈیلیٹ کی، تاہم اس حوالے سے مختلف باتیں سامنے آر ہی ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ ٹوئٹ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل کو کامیابی سے ہم کنار کرنے اور اسے کسی بھی تنازع سے پاک رکھنے کی غرض سے وزیردفاع نے اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پیس ٹاک کو کامیاب کرنے کیلئے بعض حکومتی حلقوں کے مشورے پر خواجہ آصف اپنی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔

تاہم خواجہ آصف کی طرف سے ٹوئٹ کرنے اور بعد ازاں ڈیلیٹ کرنے پر کوئی موقف یا اس سلسلے میں مزید کوئی ٹوئٹ سامنے نہیں آئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خواجہ آصف اپنی ٹوئٹ پر نادم ہوتے تو ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ اس پر معذرت کی ٹوئٹ بھی کردیتے، مگر انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا، جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ پاکستان کی ثالثی کو پیش نظر رکھ کر ٹوئٹ ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ہوئے۔

Related Posts