جنگ بندی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کب تک سستی ہوگی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات
(فوٹو: آن لائن)

امریکا و اسرائیل کے 28فروری سے شروع ہونے والے حملوں کے بعد ایران جنگ بندی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ جنگ بندی کے متعلق منفی اطلاعات سامنے آتے ہی تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود تیل اور گیس کی قیمتوں کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔آبنائے ہرمز جو تیل سمیت دیگر مصنوعات کی بین الاقوامی سمندری گزر گاہ ہے، اس کی بندش نے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ کیا۔

دراصل آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20فیصد تیل اور گیس کی ترسیل رک جانے سے قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا۔ امریکا و اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں کھاد اور ہیلیم کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا اور ایشیا و افریقہ کے ترقی پذی ممالک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

آبنائے ہرمز سے تیل سمیت دیگر مصنوعات کی معمول اور تسلسل کے ساتھ ترسیل کے آغاز سے ہی بین الاقوامی منڈی میں استحکام کا فروغ ممکن ہے تاہم امریکا  و اسرائیل کے رویے اور ایرانی قوم کی جانب سے شدید مزاحمت کے باعث جنگ بندی کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ سے قبل روزانہ کی بناید پر 120 سے 140جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے روز صرف چند ہی جہاز گزرتے ہیں جس کے نتیجے میں توانائی بحران پیدا ہوا اور اب ایران نے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ایران کی جانب سے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے علاوہ انشورنس اخراجات کے باعث بھی تیل اور گیس کی قیمت طویل عرصے تک کم ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سپلائی پرانی سطح پر بحال ہوجائے تو قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جلد تھم سکتا ہے، جس کا انحصار اب اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر ہے۔

Related Posts