وفاقی دارالحکومت آج بھی سخت سیکیورٹی حصار میں ہے جہاں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ اسلام آباد مذاکرات نے جہاں عالمی توجہ حاصل کی وہیں شہریوں کو نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اعلیٰ حکام کی طویل نشستوں کے باوجود دو ماہ سے جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور جوہری ضمانتوں جیسے اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔ غیر ملکی وفود کی روانگی کے ساتھ ہی شہر اب اس بڑے سفارتی ایونٹ کے بعد کے انتظامی اثرات سے نمٹ رہا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے غیر ملکی شخصیات کی روانگی کو سہل بنانے اور سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے جامع ٹریفک پلان جاری کیا ہے جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
درج ذیل شاہراہیں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہیں
اسلام آباد ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے: متبادل راستے مقرر، پبلک ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی
ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون: مکمل طور پر سیل
مخصوص سڑکوں کی بندش
کشمیر چوک (کلب روڈ) سے زیرو پوائنٹ (سری نگر ہائی وے)
سری نگر ہائی وے زیرو پوائنٹ سے سیرینا چوک تک
شکرپڑیاں روڈ چند تارا چوک سے سیونتھ ایونیو تک
جناح ایونیو خیابان چوک سے بلیو ایریا تک
مارگلہ روڈ فیصل چوک سے ٹریل تھری تک
حکام نے ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ بس اسٹاپس یا لوپس پر گاڑیاں کھڑی نہ کریں تاکہ ٹریفک جام سے بچا جا سکے۔
ہنگامی ہدایت؛ شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ناگزیر سفر کی صورت میں اسلام آباد پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ریڈیو پر جاری متبادل ٹریفک پلان پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکا ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تاہم سیکیورٹی انتظامات اور سڑکوں کی بندش آج شام غیر ملکی وفود کی روانگی کے بعد بتدریج ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








