دس سال کی عمر سے گانوں کا آغاز، گھر سے بھاگ کر شادی، ناکامیاں اور کامیابیاں، لیجنڈری آشا بھوسلے کی زندگی پر ایک نظر

تازہ ترین

تازہ ترین

آشابھوسلے، فائل فوٹو

بیس سے زائد زبانوں میں 7دہائیوں تک اپنی آواز سے دلوں پر راج کرنیوالی آشا بھوسلے کی آواز کو دنیا آنے والی کئی دہائیوں تک یاد رکھے گی۔
آشا بھوسلے اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکی ہیں، موسیقی کی دنیا کا ایک سنہری باب ختم ہو گیا۔ ان کی مقبولیت کا دائرہ صرف بھارت تک محدود نہیں تھا، دنیا ان کے فن کی مداح تھی، ہے اور رہے گی۔

 8 ستمبر 1933ء کو بھارت کے شہر سنگلی میں پیدا ہونیوالی آشا مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں اور بچپن ہی سے موسیقی کے ماحول میں پروان چڑھیں، انہوں نے کم عمری میں ہی فلمی گیت گانا شروع کر دیئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔ فنی سفر کا آغاز 1943ء میں محض 10 سال کی عمر میں کیا، جبکہ انہیں کلاسیکی موسیقی کی تربیت ان کے والد دینا ناتھ منگیشکر نے دی۔

1949ء میں انہوں نے گھر والوں کی مرضی کے خلاف محض 16 برس کی عمر میں 31 سالہ گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کر لی، جس کے نتیجے میں انہیں گھر چھوڑنا پڑا۔ ان کے ہونے والے شوہر گنپت راو بھوسلے ان کی بہن لتا منگیشکر کے ذاتی سیکرٹری تھے۔ بدقسمتی سے یہ شادی ناکام ہو گئی۔ بی گریڈ فلموں میں گیت گاتے ہوئے وہ نہ صرف اپنا بلکہ پورے خاندان کا خرچ اٹھا رہی تھیں۔

1957 میں جب بی آر چوپڑا نے او پی نیر کو فلم ’’نیا دور‘‘ کے لیے منتخب کیا تو نیر کی پہلی شرط یہ تھی کہ تمام گیت آشا کی آواز میں ریکارڈ کیے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی بڑی فلم کی ہیروئن کے تمام گیت آشا بھوسلے نے گائے۔ آشا اور محمد رفیع کی جوڑی نے دھوم مچا دی۔

نیر کو فلم فیئر ایوارڈ ملا اور آشا کو وہ خود اعتمادی ملی جس کی انہیں شدید ضرورت تھی۔او پی نیر کے ساتھ یہ آشا کا سنہرا دور تھا۔ ’’تم سا نہیں دیکھا‘‘، ’’جعلی نوٹ‘‘، ’’ایک مسافر ایک حسینہ‘‘، ’’پھر وہی دل لایا ہوں‘‘ اور ’’کشمیر کی کلی‘‘ جیسے گیت اسی دور کی یادگار ہیں۔

   1950ء کی دہائی میں شہرت کو اپنے ساتھ جوڑا  اوردنیا کی معروف ترین پلے بیک گلوکاراؤں میں شمار ہونے لگیں۔

1970 کی دہائی میں یہ رجحان مزید مضبوط ہوا۔ ’’دم مارو دم‘‘ اور فلم ’’کارواں‘‘ کا گیت ’’پیا تو اب تو آجا‘‘ نئی نسل کی پہچان بن گیا۔ آشا کی آواز میں شوخی اور توانائی نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔

1979 میں آشا بھوسلے اور آر ڈی برمن نے شادی کر لی۔

اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے فلمی گانوں، غزلوں، قوالی اور کلاسیکی موسیقی سمیت 20 سے زائد زبانوں میں 12 ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے اور 1 ہزار سے زیادہ بالی ووڈ فلموں کو اپنی آواز سے سجایا۔ انہیں مایا نگری میں پیار سے ’’آشا تائی ‘‘ پکارا جاتا تھا۔

 7  فلم فیئر ایوارڈز سمیت کئی قومی اعزازات حاصل کیے۔2011ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی گلوکارہ قرار دیا، جبکہ گلوکارہ کو 2000ء میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور 2008ء میں پدم وبھوشن جو بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہری ایوارڈ ہے سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

Related Posts