خاتون صحافی غریدہ فاروقی کو ایران امریکا مذاکرات کی کوریج کے دوران ان کے لباس کے انتخاب پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اور اس معاملے پر صارفین کی رائے منقسم ہو گئی کہ آیا ان کا انداز کسی سفارتی یا اعلیٰ سطح کے سیاسی ماحول کے لیے مناسب تھا یا نہیں۔
یہ تنقید اس وقت شروع ہوئی جب ان کی کوریج کی ویڈیوز اور تصاویر آن لائن وائرل ہوئیں، جن میں بعض صارفین نے کہا کہ ان کا لباس اس نوعیت کی اہم سفارتی تقریب کی سنجیدگی کی عکاسی نہیں کرتا۔
ناقدین کا کہنا تھا کہ میڈیا نمائندوں کو ایسے بین الاقوامی مواقع پر اپنے معاشرتی اور ثقافتی معیار کے مطابق پیش آنا چاہیے تاکہ ماحول کی سنجیدگی برقرار رہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ میڈیا کی ذمہ داری صرف خبر دینا نہیں بلکہ “تہذیب کی نمائندگی” بھی ہے، اور انہوں نے بین الاقوامی میڈیا کے مختلف لباس کے انداز کا تقابل بھی کیا۔
اس صارف نے مؤقف اختیار کیا کہ روایتی اقدار کی پاسداری ثقافتی فخر کی علامت ہے، اور اسے وہ “مغرب کی اندھی تقلید” سے مختلف سمجھتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب کئی صارفین نے غریدہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تنقید غیر ضروری اور ذاتی تعصب پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق لباس کا انتخاب ایک ذاتی معاملہ ہے اور اسے پیشہ ورانہ کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ غریدہ کے حامیوں نے کہا کہ آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا پر جلدی فیصلے اور ٹرولنگ عام ہے، وہاں لوگوں کی ذاتی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق غریدہ فاروقی نے اپنی رپورٹنگ کے دوران پراعتماد اور پیشہ ورانہ انداز اپنایا، چاہے لباس پر اختلاف رائے موجود ہو۔
ذیل میں غریدہ کے لباس پر ہونے والے کچھ تبصرے پیش کیے جا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








