اتوار کی صبح لاہور کی سڑکیں ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہی تھیں جہاں توانائی، جوش اور کھیلوں کا جذبہ ہر طرف دکھائی دے رہا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے میراتھن اور سائیکلنگ ایونٹ کا آغاز لاہور اسپورٹس بورڈ پنجاب کی زیر نگرانی ہوا جس میں 11 ہزار سے زائد رجسٹرڈ کھلاڑیوں اور شہریوں نے بھرپور شرکت کی اور صوبائی دارالحکومت کو ایک زندہ دل اسپورٹس فیسٹیول میں بدل دیا۔
صوبائی وزیر کھیل پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر نے خود سائیکل چلا کر اس ریس کا افتتاح کیا جبکہ دیگر کئی صوبائی وزراء بھی بطور مہمانِ خصوصی اس موقع پر موجود تھے۔ ان کی شرکت نے اس ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا اور اس کو ایک یادگار تقریب میں تبدیل کر دیا۔
مرکزی 21 کلومیٹر ہاف میراتھن اور سائیکل ریس کا آغاز صبح 6 بجے لبرٹی چوک سے کیا گیا۔ اس ایونٹ میں مختلف کیٹیگریز شامل تھیں جن میں مردوں کے لیے 21 کلومیٹر ہاف میراتھن اور سائیکل ریس، خواتین کے لیے 5 کلومیٹر میراتھن اور سائیکل ریس، 2 کلومیٹر فیملی فن رن اور 1 کلومیٹر ویل چیئر ریس شامل تھیں جس نے ہر عمر اور طبقے کے افراد کو حصہ لینے کا موقع فراہم کیا۔
لاہور کی سڑکوں پر ہزاروں افراد اس ایونٹ میں شریک ہوئے جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نمایاں نظر آئی۔ وزیر کھوکھر کے مطابق بہت سے پرجوش شہری ایک رات پہلے ہی لبرٹی چوک پہنچ گئے تھے جبکہ شرکاء کی بڑی تعداد صبح 5 بجے سے ہی قطاروں میں کھڑی تھی۔
21 کلومیٹر مردوں کی میراتھن میں محمد اختر نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ایم عامر دوسرے اور ایم عرفان تیسرے نمبر پر رہے۔ مردوں کی 21 کلومیٹر سائیکل ریس میں کراچی کے علی الیاس نے کامیابی حاصل کی، لاہور کے عاقب شاہ دوسرے اور خیبر پختونخوا کے ثناء اللہ تیسرے نمبر پر آئے۔
خواتین کی 5 کلومیٹر سائیکل ریس میں کراچی کی کھلاڑیوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی جہاں زینب نے پہلی، انیسا نے دوسری اور رابعہ نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 1 کلومیٹر ویل چیئر ریس میں ملتان کے احمد شہریار نے کامیابی حاصل کی جبکہ لاہور کے زاہد نذیر دوسرے اور نواز راشد تیسرے نمبر پر رہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر فیصل ایوب کھوکھر نے کہا کہ یہ ایونٹ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا میراتھن ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کے لوگوں کو صبح 5 بجے اٹھانا ایک مشکل کام ہے مگر مریم نواز کی قیادت نے اسے ممکن بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے وژن نے عوام کو اس غیر معمولی تعداد میں شرکت کے لیے متحرک کیا اور مجموعی طور پر 11 ہزار مرد و خواتین کھلاڑیوں کی رجسٹریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب میں کھیلوں اور فٹنس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








