خواتین سے زیادتی کی اکیڈمی! نازیبا ویڈیوز کی شوٹنگ؛ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا گھناؤنا راز عیاں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ سی این این)

بین الاقوامی میڈیا ادارے سی این این کی ایک تفصیلی تحقیق میں ایک ایسے وسیع اور منظم آن لائن نیٹ ورک کو بے نقاب کیا گیا ہے جو خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور زیادتی سے متعلق مواد کی ترسیل، تبادلے اور فروغ میں ملوث پایا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کیبل ٹی وی نیٹ ورک (سی این این) کی رپورٹ کے مطابق یہ نیٹ ورکس مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خفیہ چیٹ گروپس اور بعض سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔ ان جگہوں پر صارفین نہ صرف ویڈیوز اور مواد شیئر کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ کس طرح کسی فرد کو نشہ دے کر یا بے ہوش کرکے اس پر جنسی تشدد کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مواد کو عام الفاظ یا کوڈ ورڈز کے ذریعے چھپایا جاتا ہے تاکہ اسے آسانی سے شناخت نہ کیا جا سکے۔

متاثرہ خواتین اور واقعات

رپورٹ میں متعدد متاثرہ خواتین کی کہانیاں شامل ہیں جنہوں نے بتایا کہ انہیں ان کے قریبی افراد، بشمول شریکِ حیات یا جاننے والوں نے نشہ دے کر بے ہوش کیا اور ان کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا۔

متاثرہ افراد کے مطابق انہیں اکثر واقعے کے وقت کچھ یاد نہیں ہوتا اور حقیقت کا علم بعد میں طبی یا دیگر شواہد کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کے بعد انہیں شدید ذہنی دباؤ، شرمندگی اور قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آن لائن نیٹ ورک کا کردار

سی این این کے مطابق ان آن لائن گروپس میں بعض افراد ایسے جرائم کو معمول کی بات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ کچھ صارفین تجربات شیئر کرتے ہیں جبکہ کچھ ایسے مواد کو دیکھنے یا حاصل کرنے کے لیے ادائیگی بھی کرتے ہیں۔

تحقیق میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ رویہ ایک ایسے ڈیجیٹل کلچر کو جنم دے رہا ہے جو غیر رضامندی پر مبنی تشدد کو نارمل بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

استعمال ہونے والی ادویات اور طریقے

رپورٹ کے مطابق بعض مجرم ایسے مادے یا ادویات استعمال کرتے ہیں جو متاثرہ شخص کو فوری طور پر بے ہوش کر دیتی ہیں اور جسم سے جلد ختم بھی ہو جاتی ہیں جس کے باعث ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

قانون اور پلیٹ فارمز کا ردعمل

سی این این کی تحقیق کے مطابق کچھ پلیٹ فارمز نے ایسے گروپس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کیا ہے تاہم یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان جرائم کی شناخت اور ثبوت اکٹھا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر جب مواد آن لائن خفیہ طریقوں سے شیئر کیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ صرف چند انفرادی جرائم نہیں بلکہ ایک ایسا منظم آن لائن رجحان ہے جو حقیقی دنیا میں خواتین کی حفاظت اور ان کے حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔

سی این این کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نہ صرف قانونی کارروائی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی سخت نگرانی بھی ضروری ہے۔

Related Posts