وزیرِاعظم شہباز شریف نے سرکاری ملازمین کے لیے ایک نئی سبسڈی والی الیکٹرک بائیک (ای بائیک) اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ یہ پروگرام خاص طور پر 16 گریڈ تک کے سرکاری ملازمین کیلئے ہے جس کا مقصد ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا اور ملک کی ایندھن پر انحصار کو کم کرنا ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن (PAVE) پروگرام 2025 کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ اس کے تحت اہل افراد کو الیکٹرک بائیک خریدنے کے لیے دو لاکھ روپے تک بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ ہر بائیک پر پچاس ہزار روپے تک کی سبسڈی بھی دی جائے گی۔
اس اسکیم کے مطابق مستفید ہونے والے افراد باقی رقم آسان ماہانہ اقساط میں دو سال کے اندر واپس کریں گے۔ یہ اقساط تقریباً چھ ہزار دو سو پچاس روپے سے لے کر آٹھ ہزار تین سو تینتیس روپے ماہانہ تک ہوں گی تاکہ ادائیگی کا بوجھ کم رکھا جا سکے۔
حکومت کا یہ اقدام ملک میں برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کے وسیع منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت آنے والے پانچ برسوں میں 30 فیصد گاڑیوں کو الیکٹرک توانائی پر منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں وزیرِاعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اس تبدیلی سے ملک کو تیل کی درآمدات میں تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک کی ممکنہ بچت ہو سکتی ہے جو معیشت کے لیے اہم ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک وہیکل سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اب تک الیکٹرک موٹرسائیکلوں اور رکشوں کے لیے 72 مینوفیکچرنگ سرٹیفکیٹس جبکہ الیکٹرک کاروں کے لیے 4 سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








